BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف سی فائرنگ، خاتون ہلاک

کوئٹہ میں تشدد
کوئٹہ میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
کوئٹہ کے داخلی اور خارجی راستے لکپاس کے قریب فرنٹیئر کور کے جوانوں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک خاتون ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ ایک خاتون اور اس کی بچی معجزانہ طور پر بچ گئی ہیں۔

کوئٹہ کے پولیس افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ لکپاس کے قریب ایف سی کے اہلکاروں نےایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ جب گاڑی نہ رکی تو ایف سی کے جوانوں نے اس پر فائرنگ شروع کر دی جس سے گاڑی کی پچھلی کھلی نشتوں پر بیٹھی ایک عورت ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔

بولان میڈیکل کملیکس کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹر باقرشاہ نے بتایا ہے کہ خاتون کو پسلی اور سینے میں گولیاں لگی ہیں جبکہ زخمی شخص کو گردوں کے پاس گولیاں لگی ہیں۔ زخمی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

متاثرہ خاندان کے لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ گڈانی سے اس گاڑی میں سوار ہو کر کوئٹہ آ رہے تھے اور تیز رفتاری کی وجہ سے ایف سی کے اہلکاروں کے اشارہ دینے پر ذرا دور جا کر ڈرائیور نےگاڑی روکی لیکن اس دوران ایف سی کے اہلکاروں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے دونوں بہن بھائی بتائے گئے ہیں جبکہ اس شخص کی بیوی اور بچی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما صادق رئیسانی ایڈووکیٹ نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے احتجاجاً لکپاس کے پاس سڑک بلاک کر دی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو روز پہلے کوئٹہ میں ایک شخص نے مبینہ طور پر خود کو ایف سی کی گاڑیوں کے پاس دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں ایف سی کے تیرہ اہلکاروں سمیت بائیس افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ ایک سکول کی طالبہ ہلاک ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد سے کوئٹہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ اس مہینے کی پندرہ تاریخ کو ایف سی کے اہلکاروں نے ہزار گنجی کے قریب مبینہ طور پر ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا اور پھر ایف سی کے حکام نے کہا تھا کہ مذکورہ گاڑی میں بھاری مقدار میں بارود لایا جا رہا تھا۔

اس کے برعکس مری اتحاد کے ترجمان کا دعوی ہے کہ ایف سی نے ہزار گنجی کے علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس میں ایک خاتون ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی تھی جب ایک روز پہلے دبئی میں مری قبیلے کے رہنما نوابزادہ گزین مری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ملاقات کی تھی۔

اسی بارے میں
کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ
24 September, 2008 | پاکستان
کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد
16 September, 2008 | پاکستان
مورچوں کا شہر
02 September, 2008 | پاکستان
بلوچ تنظیموں کی فائر بندی
01 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد