عید: جیل کی سلاخوں کے پیچھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صوبہ پنجاب اور سندھ میں اسی ہزار کے قریب افراد نے عید جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاری ۔ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے بے گناہ یا مجرم ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا اور ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ جیل حکام کاکہناہے کہ عید پر قیدیوں سے خصوصی سلوک روا رکھا گیا۔ انہیں اجتماعی نماز عید کی اجازت ملی اور کھانے میں دودھ اور گوشت کی مقدار بڑھائی گئی سوئٹ ڈش کے طور پر سویاں دی گئیں لیکن لاہور کی کیمپ جیل کے ایک قیدی نے ان تمام سہولیات کے باوجودجیل میں عید گزارنے کو اذیت ناک قرار دیا۔ لاہور کی سیشن عدالت میں پیشی پر آئے ایک قیدی نے کہا کہ ’جیل نری ذلالت ہے، میں تین عیدیں جیل میں گزار چکا ہوں، دن میں صرف ایک بار قیدیوں کو بیرکوں سے نکالا جاتا ہے، کھانے کو کچھ خاص نہیں ملتا اور پھر کبوتروں کی طرح واپس جنگلوں میں بند کردیا جاتا ہے‘۔ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ قیدی ہیں جس کی وجہ سے انہیں تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بعض قیدیوں کا کہنا ہے کہ عید پر ذہنی اذیت جسمانی مشکلات سے بڑھ جاتی ہے۔ ایک قیدی نے کہا کہ وہ تین برس سے قید ہیں ان کے والدین ان کی قید کے دوران ہی چل بسے تھے اور اب وہ بچوں کو یاد کرکے روتے ہیں۔اس قیدی نے گلوگیر لہجے میں کہا کہ ’عید پر ماں باپ اور بچے بہت یاد آتے ہیں‘۔ عید پر یہ بے بسی صرف قیدیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کے عزیز رشتہ داروں کی بھی ان کی غیر موجودگی محسوس کرتے ہیں۔ لاہور کے ایک قیدی کو عید سے صرف ایک روز پہلے عدالت نے سزا سنائی تو اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا کہ عید بیٹے کے بغیر کیسے مناؤں گی کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ لاہور کے علاقے ہنجروال کا ایک ہیجڑا اشفاق چھیمو اس لحاظ سے توخوش نصیب نکلا کہ اسے عدالت نے عید سے ایک روز پہلے قتل کے مقدمے میں بری کردیا لیکن جیل سے باہر اس کا استقبال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کی ہتھکڑیاں کھولی گئیں تو وہ دوسرے قیدیوں کے پاس کھڑا رہا اور ان سے ہی مبارک بادیں وصول کرتا رہا خوشی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔اس نے کہا کہ اس کے والدین تو کوئی نہیں ہیں لیکن اب وہ اپنےبہن بھائیوں کےساتھ عید منائےگا۔
اس عید پر صدر پاکستان کے علاوہ صوبوں کے وزرائے اعلی نے بھی رعائتیں دیں حکومت نےغریب قیدیوں کے جرمانے بھرے اور عدالتوں نے دیر تک کام کرکے ضمانتیں لیں پنجاب کے سیشن ججوں نے سرسری سماعت کے بعد چھوٹےجرائم میں ملوث ملزم بری کیے کل پانچ ہزار قیدی رہا ہوئے لیکن پھر بھی صرف پنجاب کی جیلوں میں ساٹھ ہزار اور سندھ کی جیلوں میں اٹھارہ ہزار قیدی عید کے دن جیل میں ہیں۔ لاہور کی کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ گلزار بٹ نے کہا کہ عید پر ملاقاتوں کی اجازت تو نہیں دی گئی لیکن قیدیوں کے لواحقین کو اجازت تھی کہ وہ گھروں سےکھانا لاکر قیدیوں کو بھجوا دیں۔ انہوں نے کہا تسلیم کیا کہ سویاں، خصوصی کھانے اور نماز عید کی اجازت عید پر اپنوں کا نعم البدل نہیں ہوتی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں قیدی کو جرم کرنے سےپہلے سوچنا چاہیے۔ پاکستان کی جیلوں میں قید افراد میں سے سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد ایک تہائی سے کم ہے اور بیشترعدالتی فیصلوں کے منتظر ہیں۔ انہیں نہیں علم کہ وہ مجرم قرار پائیں گے یا پھر کئی برس جیل میں گزارنے کے بعد یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ وہ بے گناہ تھے۔ | اسی بارے میں عید پر پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی30 September, 2008 | پاکستان قیدیوں کو موسیقی کی تربیت02 September, 2008 | پاکستان بھائی کی قیدی یا ذہنی مریض05 August, 2008 | پاکستان سکھر جیل: قیدیوں کی ہنگامہ آرائی18 July, 2008 | پاکستان سندھ جیل، گنجائش سےدوگنا قیدی01 July, 2008 | پاکستان سندھ کی جیلوں سےتینتیس قیدی رہا26 May, 2008 | پاکستان قیدیوں کی رہائی یوسف رضا کا حکم21 May, 2008 | پاکستان قیدیوں تک رسائی کا معاہدہ’تیار‘20 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||