سندھ کی جیلوں سےتینتیس قیدی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبۂ سندھ کی مختلف جیلوں میں قید تینتیس ایسے قیدی جو اپنے جرمانوں کی رقم کی عدم ادائیگی پر اپنی سزا پوری ہونے کے باوجود پابندِ سلاسل تھے حکومت کی جانب سے جرمانے کی رقم کی ادائیگی کے بعد پیر کے روز رہا کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے رقم کی ادائیگی وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ ان قیدیوں پر متعلقہ عدالتوں نے قید کی سزا کے ساتھ ایک ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک جرمانے عائد کیے تھے۔ یہ تینتیس قیدی اپنی سزا کی مدت تو پوری کرچکے تھے لیکن پیسے نہ ہونے کی صورت میں اپنے جرمانے کی رقم کی ادائیگی سے قاصر تھے جو ان کی رہائی میں رکاوٹ تھے۔ آئی جی جیل خانہ جات یامین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ہفتے قبل وزیراعظم نے ملک کے تمام آئی جی جیل خانہ جات کا ایک اجلاس بلایا تھا جس میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایسے قیدی جو جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے جیلوں میں بند ہیں ان کے جرمانے کی رقم حکومتِ پاکستان ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسے تینتیس قیدی تھے جو صوبے کی مختلف جیلوں میں قید تھے اور وہ جرمانے کی رقم ادا نہیں کرسکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم سیکریٹریٹ سے سولہ لاکھ روپے کا چیک ملنے کے بعد ان قیدیوں کے جرمانے جمع کرادیے گئے ہیں اور پیر کو انہیں رہا کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیدی جرمانے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے ایک ماہ سے ڈیڑھ سال تک اپنی سزا کاٹنے کی علاوہ پابندِ سلاسل رہے۔ یامین خان کے بقول ان قیدیوں کو مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی تھی جن میں زِنا، منشیات، بغیر لائسنس اسلِحہ اور چند ایک ایسے تھے جنہوں نے معمولی نوعیت کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ | اسی بارے میں قیدیوں کی رہائی یوسف رضا کا حکم21 May, 2008 | پاکستان جیل ریفارمز: ایک اور کمیٹی کا قیام09 May, 2008 | پاکستان سزائےموت کی جگہ عمر قید20 April, 2008 | پاکستان پھانسی کے بعد آنکھیں عطیہ20 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||