سزائےموت کی جگہ عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے وفاقی حکومت کی جانب سے سزائے موت کو ختم کر کے اسے عمر قید میں بدلنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ داخلہ رحمان ملک نے سنیچر کو کہا ہے کہ حکومت نے سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے بقول ’سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے صدر کو سمری بھیجی جا رہی ہے اور اب دیکھیں کہ اس پر کیا ہوتا ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ جن قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل ہوگی انہیں مزید کوئی رعایت یا معافی نہیں ملے گی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال حیدر نے کہا کہ پاکستان میں ناقص نظام عدل کی وجہ سے بےگناہوں کو سزائے موت ہونے کا امکان ہوتا ہے جو ایک سنگین غیر انسانی فعل ہے۔انہوں نے اس بابت فوجداری قوانین میں ترمیم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خوش آئندہ بات ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو ترجیح دیتے ہوئے پیش رفت کی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تین سو کے لگ بھگ سزائے موت کے قیدی ڈیتھ سیل میں ہیں جبکہ سات ہزار کے قریب قیدیوں کو سزائے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ سزائے موت کو ختم کیا جائے جبکہ عالمی سطح پر بھی عوامی رائے عامہ بھی پھانسی کی سزا کی منسوخی کے حق میں ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کو بھی اس تبدیلی سے فائدہ ہوتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ ان کے بقول یہ کہنا ہے درست نہیں ہے کہ سربجیت سنگھ کو سزائے موت ختم کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے بلکہ اس معاملے کو سربجیت سنگھ تک محدود کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہو یا پاکستان اگر کسی کی جان بخشی ہو جاتی ہے اس سے اچھی بات کیا ہوگی۔ یاد رہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جنہیں گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران موت کی سزا سنائی گئی، جبکہ صرف پنجاب میں ایسے قیدیوں کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔ | اسی بارے میں گیارہ سال میں دس ہزار کو سزائے موت 10 October, 2007 | پاکستان ’موت کی سزا ختم کی جائے‘25 January, 2007 | پاکستان پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان پھانسی کے بعد آنکھیں عطیہ20 February, 2008 | پاکستان سربجیت: سزا ایک ماہ کے لیےملتوی19 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||