BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 February, 2008, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھانسی کے بعد آنکھیں عطیہ

آپریشن
چار سال قبل پھانسی پانے والے شیخ امجد کی آنکھیں نکالی جا رہی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں آج دوسری پھانسی دی گئی جس میں سزائے موت پانے والے کسی قیدی نے بعد ازمرگ اپنے جسمانی اعضاء عطیہ کئے ہوں اور اُس پر عملدرآمد بھی ہوا ہو۔

چالیس سالہ جاوید ملِک کو بدھ کی صبح کراچی کے سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا جس پر الزام تھا کہ اُس نے جولائی انیس سو ستانوے کو گلشنِ اقبال کے علاقے میں بھتہ نہ دینے پر فائرنگ کی تھی جس سے صوبہ بلوچستان کے سابق وزیر اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماء اشرف کاکڑ کے بیٹے عامر کاکڑ ہلاک ہوئے تھے۔

جاوید ملک نے جیل حکام کودی گئی وصیت میں اپنے جسم کے اعضاء کسی مستحق کو دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

غیر سرکاری فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف والنٹیئر فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جاوید ملک کی لاش آنکھوں کے سرکاری سپتال سپنسر آئی ہسپتال پہنچائیں۔ وہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اُس کی دونوں آنکھیں نکال کر ایک آنکھ کراچی کی رہنے والی خاتوں اور دوسری اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والے کسان کو لگا دی ہیں۔

جاوید ملک کو پاکستان کا دوسرا قیدی قرار دیا جا رہا ہے جس نے موت کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کئے۔اس سے قبل کراچی میں ہی مارچ دو ہزار چار میں شیخ امجد نامی ایک قیدی نے پھانسی کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کی وصیت کی تھی۔

شیخ امجد کو نوجوان بیرسٹر شاکر لطیف کو دو ہزار ایک میں تاوان کے لیئے اغوا کرنے اور تاوان وصول کرنے کے باوجود اُسے قتل کردینے کا الزام تھا۔

وصیت کے مطابق پھانسی کے فوری بعد شیخ امجد کی ایک آنکھ نارتھ کراچی کی رہنے والی لڑکی نجم السحر اور دوسری نثار نامی نوجوان کو لگا دی گئی تھی۔

نجم السحر پیدائشی طور پر آنکھوں کی بیماری میں مبتلا تھی جس کی بینائی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جاتی رہی تھی۔ نجم السحر اب مکمل صحت یاب ہے اور دو ماہ قبل اُس کی شادی ہوئی ہے۔

جبکہ نثار ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اور ایک حادثے میں بینائی سے محروم ہوگیا تھا۔ اب وہ بھی شیخ امجد کی ایک آنکھ سے دنیا کی رنگینی دیکھ رہا ہے۔

باپ کی آنکھیں دیکھ کر روئی
 آنکھ لگنے کے کچھ روز بعد شیخ امجد کی صاحبزادی جو اپنے والد کی پھانسی کے وقت ملک سے باہر تھیں آئیں اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ مجھ اور نجم السحر سے ملیں اور کافی دیر تک ہماری (یعنی اپنے والد) آنکھوں کو دیکھتی رہیں اور روتی رہیں۔ اُس کے بعد سے ہم سے شیخ امجد کے خاندان کے کسی فرد نے رابطہ نہیں کیا۔
نثار

نثار آج کل ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہے۔اُس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’آنکھ لگنے کے کچھ روز بعد شیخ امجد کی صاحبزادی جو اپنے والد کی پھانسی کے وقت ملک سے باہر تھیں آئیں اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ مجھ اور نجم السحر سے ملیں اور کافی دیر تک ہماری (یعنی اپنے والد) آنکھوں کو دیکھتی رہیں اور روتی رہیں۔اُس کے بعد سے ہم سے شیخ امجد کے خاندان کے کسی فرد نے رابطہ نہیں کیا۔‘

نثار کہتے ہیں کہ شیح امجد کی آنکھ سائز میں اُن کی آنکھ سے بڑی ہے جو غور سے دیکھنے پر محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صبح جاگنے کے بعد اس میں روشنی آنے میں کچھ دیر لگتی اور پہلی بار پلکوں کو زور دے کر کھولنا پڑتا ہے تاہم بعد میں یعنی دن بھر اس کی بینائی صحیح رہتی ہے۔

فیصل ایدھی کے مطابق بدھ کے روز سزائے موت پانے والے جاوید ملک کراچی کے علاقے گلشنِ معمار کے رہنے والے تھے اور مبینہ طور پر الذوالفقار نامی تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے جسم سے صرف آنکھیں نکالنا ہی ممکن تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے قیدیوں میں آنکھیں عطیہ کرنے کا رواج ابھی صرف کراچی کی ہی حد تک ہے جو بہت محدود ہے۔ تاہم آنکھوں کے عطیے کے منتظر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایدھی فاؤنڈیشن اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری اسپتالوں کی لسٹ پر ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں میں دو سو پچیس قیدیوں کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے جبکہ جیل حکام کے مطابق اس وقت کراچی جیل میں ایک سو آٹھ قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔

نثار
نثار کی حالیہ تصویر جسے دو ہزار چار میں شیخ امجد کی آنکھ لگائی گئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نیشنل کوآرڈینیٹر حُسین نقی کہتے ہیں’ہم اب بھی قیدیوں کو پھانسی دینے کے خلاف ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ پانچ برسوں میں دو ہزار سات قیدیوں کو سزائے موت دینے کے حوالے سے بدترین سال رہا جس میں ملک بھر کی جیلوں میں کل ایک سو دس افراد کو پھانسی لگائی گئی جن میں دو افراد اقلیت سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ہزار چار میں یہ تعداد اٹھارہ تھی، دو ہزار پانچ میں بیالیس قیدیوں کو پھانسی کی سزا دی گئی اور دو ہزار چھ میں ساٹھ افراد مختلف جرائم کے الزامات کے تحت تختہ دار پرلٹکائےگئے ہیں۔

حسین نقی کہتے ہیں کہ پانچ برسوں میں پاکستان کی مختلف عدالتوں سے سزائے موت پانے والے تمام بالغ مرد تھے جن میں کل چار اقلیت سے تعلق رکھتے تھے تاہم دو ہزار چار میں ایک کم عمر لڑکے کو بھی سزائے موت ہوئی تھی۔

روان برس میں کل چار افراد کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا ہے جن میں تین افراد قتل کے الزام میں اور ایک اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا۔

بدھ کو سزائے موت پانے والے جاوید ملک کے بارے میں کراچی سینٹرل جیل کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ممتاز اعوان کہتے ہیں ’جاوید ملک نے جیل میں دس سال گزارے اور اس دوران جیل عملے اور ساتھی قیدیوں کے ساتھ اُس کا رویہ مجموعی طور پر اچھا رہا تاہم اہلِ خانہ نے اُس سے تعلق ختم کرلیا تھا۔اس بات کا اُسے دکھ تھا اور اسی بناء پر اُس نے لاش کسی رشتے دار کے بجائے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کی وصیت کی تھی۔‘

 گردے گردہ فروشی جاری
غریب صرف ایک لاکھ میں ’عطیہ‘ دینے کوتیار
فائل فوٹو: گردے کا ایک ڈونرگردہ فروشی اور قانون
ہسپتالوں میں کارروائی، مریض مشکل میں
گردہ برائے فروختاعضاء کی تجارت
قانون سازی میں تاخیر پر سپریم کورٹ کا نوٹس
شیخ امجدآنکھیں سہارا بنیں
پھانسی گھاٹ جانے والے کی آخری خواہش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد