BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 20:55 GMT 01:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

شیخ امجد
درمیانہ قد، بڑی پیشانی اور سفید بالوں والا باریش شخص شلوار قمیض پہنے کراچی کی سینٹرل جیل میں پھانسی کی سزا پر عمل کا منتظر ہے۔

عدالت نے شیخ امجد نامی اس شخص کو چار مارچ کی صبح کو سورج نکلنے سے پہلے پھانسی دینے کا حکم سنایا ہے۔

یہ شخص اپنے کیے پر شرمندہ توکیا ہوگا پریشان بھی نظر نہیں آتا۔

بات چیت کے دوران وہ صرف ایک ہی بات کرتا رہا۔ ’میری آنکھیں جس شخص کو لگائیں وہ دیکھنے کے قابل ہوجائے اور وہ لڑکی بھی جسے میری دوسری آنکھ لگے گی۔‘

شیخ امجد نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایدھی فاونڈیشن نے اُس کی ایک آنکھ تیس سالہ نثار احمد اور دوسری آنکھ اُنّیس سالہ نجم سحر کو لگوانے کا بندوبست کیا ہے۔

شاکرلطیف
معروف صنعت کار فضل لطیف کا جواں سال بیٹا شاکرلطیف جو شیخ امجد کے ہاتھوں قتل ہوا

’میری آنکھیں جس شخص کو لگیں وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے، میں اپنے رشتہ داروں سے کہتا ہوں کہ وہ اس لڑکے اور لڑکی کامیرے بعد بھی خیال رکھیں۔

’خدا کرے کہ وہ جلد دیکھنے کے قابل ہوجائیں، شاید وہ آخرت میں میری بخشش کا سبب بنیں۔

شیخ امجد نے اگست 2001ء میں کراچی میں بیرسٹر شیخ سلطان کو اور ان کے بعد معروف صنعت کار فضل لطیف کے بیٹے بیرسٹر شاکر لطیف کو اغوا کے بعد تاوان نہ ملنے پر قتل کیا تھا۔

فضل لطیف آج بھی اپنے بچے کی یاد میں بہت دکھ اور غصے میں نظر آتے ہیں، انہوں نے شیخ امجد کو معاف کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

شیخ امجد نے اپنی آنکھوں کا دینے کے حوالے سے بتایا کہ ایک دن وہ اپنے رشتہ دار سے جیل میں باتیں کررہا تھے جو ان سے ملنے آئے تھے۔

’میں نے پوچھا کہ میرے جسم کا کوئی حصہ کسی کے کام آسکتا ہے؟ کیا میں کسی انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں؟ تو انہوں نے مجھے کہا کہ تم ایسا کرسکتے ہو اس دن میں نے اپنا پورا جسم عطیہ کرنے کا ارادہ کیا مگر مجھے بتایا گیا کہ گردے اور آنکھیں ہی کام آسکتے ہیں۔‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے عبدالستار ایدھی نے بتایا کہ اس شخص کا دل بہت بڑا ہے اور اگر اس کی لاش لینے گھر کا کوئی فرد نہیں آیا تو تدفین ہم کرینگے۔

اپنے جرم کے حوالے سے شیخ امجد نے بتایا کہ یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ ’زندگی میں کبھی میں کسی کے کام نہیں آیا مگر مرنے کےبعد کام آنا چاہتا تھا اسی لیے آنکھوں کا عطیہ دیا ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد