BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 May, 2008, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل ریفارمز: ایک اور کمیٹی کا قیام

جیل
قوانین میں ترمیم کرکے اس کا نام ’اصلاحی سینٹر‘ رکھنے کے بارے میں مشاورت کی جائے گی: فاروق نائیک
حکومت پاکستان نے قیدیوں کے بارے میں بنائے گئے قوانین میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ ایک مسودہ تیار کیا جائے جس میں تمام صوبوں کے جیل خانہ جات کے محکموں کے ساتھ مشاورت بھی کی جائے۔

وزارت قانون سے کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں صوبوں کے متعلقہ حکام کا اجلاس بھی بہت جلد طلب کیا جائے جس میں اس ایکٹ میں بہتری کے لیے ملک کے دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی آرا لی جائیں۔

معلوم ہوا ہے کہ اب تک جیل ریفارمز سے متعلق مختلف ادوار میں نو کمیٹیاں بن چکی ہیں اور ان سب کمیٹیوں کی سفارشات وزارت قانون میں موجود ہیں اور ان سفارشات پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمائتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور میں جیل ریفارمز لانے کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے صوبوں کے متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی لیکن اُس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ قیدیوں کے بارے میں بنائے گئے قوانین میں تبدیلی کے لیے سفارشات مرتب کرے اور رپورٹ وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کو بھجوائیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم سید یوسف رصا گیلانی نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد چار سال سے زائد عرصہ اڈیالہ جیل میں گزارا ہے انہیں نیب نے قومی اسمبلیوں میں بھرتیوں کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

 قیدیوں کے بارے میں ایسے قوانین بنائے جائیں تاکہ قیدی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور قید کے دروان ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد معاشرے کے ایک فعال شہری بن سکیں۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں قیدیوں کے لیے بنائے گئے قوانین میں ترمیم کرکے اس کا نام ’اصلاحی سینٹر‘ رکھنے کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں قانونی ماہرین کی آرا بھی لی جائے گی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں ہدایت کی ہے کہ قیدیوں کے بارے میں ایسے قوانین بنائے جائیں تاکہ قیدی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور قید کے دروان ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد معاشرے کے ایک فعال شہری بن سکیں۔

پاکستان میں اس وقت ستاسی جیلیں ہیں جن میں قیدیوں کی گنجائش پینتیس ہزار سے لیکر چھتیس ہزار تک ہے۔ لیکن غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ان جیلوں میں نوے ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔

ان جیلوں میں اتنی بڑی تعداد میں قیدی ہونے کی وجہ سے بعض جیلوں میں قیدیوں نے جگہ کی کمی کی وجہ سے آٹھ آٹھ گھنٹے سونے کی شفٹ لگا رکھی ہے۔

سب سے زیادہ قیدی کراچی کی سینٹرل جیل میں ہیں جن کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے جبکہ اس میں گنجائش تقریباً اڑھائی ہزار کی ہے۔ دوسرے نمبر پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ہے جہاں پر قیدیوں کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہے جبکہ یہ جیل انیس سو قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔

 پاکستان میں اس وقت ستاسی جیلیں ہیں جن میں قیدیوں کی گنجائش پینتیس ہزار سے لیکر چھتیس ہزار تک ہے۔ لیکن غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ان جیلوں میں نوے ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔

اسلام آباد میں بھی ایک جیل بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ اڈیالہ جیل میں دو ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنہیں اسلام آباد کے تھانوں میں درج ہونے والے مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

قیدیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والی تنظیم گلوبل فاونڈیشن کے صدر الفت کاظمی کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے بارے میں بنائے گئے قوانین پاکستان کے قیام سے پہلے کے ہیں جن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے بارے میں اصلاحات لانے کے لیے گزشتہ بیس سال سے مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور اس حوالے سے ان کی تنظیم نے بھی اپنی سفارشات بھیجی تھیں لیکن ابھی تک ان سفارشات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ کسی بھی قیدی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے بیڑیاں نہ پہنائی جائیں کیونکہ یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔

الفت کاظمی نے الزام عائد کیا کہ جیل کا عملہ متعلقہ جج کو ایک خط لکھتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ملزم عدالت میں پیشی کے دروان بھاگ سکتا ہے اس لیے اُس کو بیڑیاں ڈال کر عدالت میں پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ جیل کا عملہ ان قیدیوں سے پیسے لیکر بیڑیاں کھول دیتے ہیں۔

ملک بھر کی ستاسی جیلوں میں بنائے گئے ڈیتھ سیل جہاں پر سزائے موت پانے والے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور ایک سیل میں ایک سے دو قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن ان ڈیتھ سیل میں پانچ سے لیکر سات افراد کو رکھا جاتا ہے۔

 قیدیوں کے بارے میں اصلاحات لانے کے لیے گذشتہ بیس سال سے مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور اس حوالے سے تنظیم نے بھی اپنی سفارشات بھیجی تھیں لیکن ابھی تک ان سفارشات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
گلوبل فاؤنڈیشن

مقامی میڈیا میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ حکومت نے محکمہ جیل خانہ جات کو ہدایت کی ہے کہ وہ سزائے موت کے قیدیوں کو ڈیتھ سیل سے نکال کر عام بیرکوں میں شفٹ کریں کیونکہ حکومت ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

تاہم اس حوالے سے جب اے آئی جی جیل خانہ جات طارق بابر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس ضمن میں حکومت کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملی۔

ان جیلوں میں گزشتہ دس سال سے نو ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جنہیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان میں سے صوبہ پنجاب کی بتیس جیلوں میں موت کی سزا پانے والے تقریباً سات ہزار قیدی موجود ہیں۔ نوہزار سے زائد ان قیدیوں میں سے تین ہزار سات سو سے زائد ایسے قیدی ہیں جن کی اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

صدر مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں چار سو بارہ افراد کو پھانسی دی گئی۔ سنہ دو ہزار سات میں ایک سو چوبیس افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ اس سال صرف ایک قیدی پاکستانی نژاد برطانوی شہری طاہر مرزا کی سزا معاف کی گئی۔

اسی بارے میں
قیدی زیادہ، کال کوٹھڑیاں کم
25 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد