بھائی کی قیدی یا ذہنی مریض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سگے بھائی کی مبینہ قید سے رہائی پانے والی دو بہنوں کی کہانی ایک معمہ بن گئی کیونکہ ماہرین نفسیات اور پولیس اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ ان دونوں بہنوں کو ان کا بھائی پندرہ برس تک قید میں رکھ سکتا ہے۔ وزیر اعلیْ کی معائنہ ٹیم اور مقامی پولیس نے تین روز قبل لاہور کے گنجان آباد علاقہ کے ایک گھر سے دو بہنوں اوران کے باپ کو برآمد کیا تھا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ خبر چھائی رہی کہ دو لڑکیوں کو ان کے سگے بھائی قیصر نے پندرہ برس سے قید کررکھا تھا اور اسی وجہ سے اُن کی حالت نیم پاگلوں جیسی ہوگئی ہے۔ پنتیس سالہ رفعت ، ستائیس سالہ نگہت اور ان کے والد نذیر اس وقت ذہنی امراض کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کو مبینہ طور پر محبوس رکھنے والا ان کا بھائی غائب ہے اور لاہور پولیس کو اس شخص کا تاحال کوئی سرا غ نہیں ملا ہے۔ سرکاری ذہنی امراض کے ادارے کی چیف کنسلننٹ اور ان لڑکیوں کی معالج ڈاکٹر نصرت حبیب رانا کا کہنا ہے کہ یہ بہنیں جس ذہنی مرض میں مبتلا ہیں اس کا سبب بظاہر قید نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسے مریضوں کے بارے میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ ان پر کسی جن کا سایہ ہوگیا ہے اور بیماری کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے بیماری بگڑ جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں اور ان کے والد کو ایسی ذہنی بیماری ہونے کا بھی اندیشہ ہے جوموروثی طور بھی منتقل ہوتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کا بھائی بھی ذہنی بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر نصرت حبیب کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کےمعائنہ سے یہ نہیں لگتا ہے کہ یہ لڑکیاں پندرہ برس سے قید تھیں ۔ان کی اس حالت کی ایک وجہ بیماری کا علاج اور دیکھ بھال نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کا والد نذیر غیر متعلقہ باتیں کرتا ہے اور رفعت کوئی بات نہیں کرتی جبکہ نگہت اپنے بھائی قیصر کو پکارتی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے ابھی ان لڑکیوں کو محبوس رکھنے کے معاملے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ڈی پی او لاہور چودھری شفیق کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اور ان والد ہسپتال میں ہیں اور ان کی طرف سے ابھی کوئی ایسا بیاں نہیں آیا جس کی بنیاد پر کارروائی کی جاسکے جبکہ ان کا بھائی بھی لاپتہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں لگتا کہ ان لڑکیوں کو پندرہ برس تک قید میں رکھا۔ان کے بقول اس معاملے میں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان لڑکیوں کا بھائی اپنے بہنوں اور والد کی بیماری کی وجہ سے گھر پر تالا لگاتا ہو تاکہ اس کی عدم موجودگی میں وہ کہیں گھر سے باہر جاکر لاپتہ نہ ہوجائیں۔ خیال رہے کہ رفعت، نگہت اور ان کے والد نذیر کی برآمدگی کے لیے کارروائی وزیر اعلیْ کی معائنہ ٹیم کو علاقے کے رہائیشوں کی طرف سے ملنے والی درخواست پر عمل میں لائی گئی تھی۔پولیس نے ریسکیو کی مدد سے ان لڑکیوں اور ان کے والد کو گھر باہر نکالا اور ان کو مقامی ہسپتال میں طبی معائنہ کےلیے لیجایا گیا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||