قیدیوں کو موسیقی کی تربیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پہلی مرتبہ کراچی سنٹرل جیل میں قیدیوں کےلیےموسیقی کی کلاسیں شروع کی گئی ہیں جہاں قیدیوں کو ساز اور آواز کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ سنٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین منگن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ہفتہ قبل جیل میں موسیقی کلاسوں کی ابتدا کی گئی ہے۔ ان کلاسوں کے لیے تیس کے قریب ملکی اور غیرملکی قیدیوں کے دو گروپ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ سنٹرل جیل کراچی میں موسیقی کلاسیں ہفتے میں دو دن ہوتی ہیں، جہاں جیل سے باہر کے میوزک ٹیچر ایرک سرور اور سکندر جوگی قیدیوں کو تربیت دینے کے لیے آتے ہیں۔ پاکستان میں جیل کا ایک بھیانک تصور ہے جہاں سے قیدیوں کو مشقت، تشدد اور بیل کڑیوں یا بند وارڈ میں رکھنے کی خبریں باہر آتی ہیں مگر سنٹرل جیل کراچی کی ایک سو نو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ شاعری اور موسیقی کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ مستقبل کےموسیقار قیدیوں کےلیے جیل حکام نے چار کی بورڈ، دو کانگو، ایک ہارمونیم، چار گٹار اور طبلےکا ایک سیٹ خریدا ہے جو موسیقی سیکھنے والے قیدیوں کےحوالے کیا گیا ہے۔ کراچی سنٹرل جیل کے پانچ ہزار پانچ سو قیدیوں کےلیے یہ آلات بہت ہی کم ہیں مگر سپرنٹنڈنٹ کے مطابق انہوں نے ایک ابتدا کی ہے آگے جیسے جیسے قیدیوں کی دلچسپی بڑھے گی وہ انہیں موسیقی کے آلات فراہم کرتے رہیں گے۔ سنٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کی موسیقی تربیت کے بعد عیدالفطر کے موقع پر ایک میوزک کنسرٹ ہوگا جس میں قیدی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سنٹرل جیل کراچی میں موسیقی کلاسوں سے پہلے قیدیوں کے لیے فائن آرٹ کی کلاسیں شروع کی گئی تھیں جو جیل حکام کے مطابق کامیاب تجربہ رہا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کےمطابق فائن آرٹ کی کلاسوں میں بیس قیدیوں نے تربیت حاصل کی۔ انہوں نے اپنی پینٹنگز واٹر کلر، پینسل ورک اور دیگر طریقوں سےبنائیں ۔بیس آرٹسٹ قیدیوں میں سے بارہ قیدیوں کی پینٹنگز جیل کےاندر اور فرانس کے قونصل خانے میں نمائش کےلیے رکھی گئیں تھیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق قیدیوں کی پینٹنگز سے جیل کو ایک لاکھ ستر ہزار کی رقم حاصل ہوئی تھی جو آرٹسٹ قیدیوں پر خرچ کی جا رہی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں جیل سے باہر کی زندگی میں کلاشنکوف اور ٹی ٹی پستول تھے ان ہاتھوں میں ان کی جیل سےرہائی کے بعد برش یا گٹار ہونا چاہیئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||