BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ جیل، گنجائش سےدوگنا قیدی

صوبائی مشیر کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی تعداد میں کمی کے لیے حکومت انہیں پیرول پر رہا کرنے پر غور کر رہی ہے
سندھ کے مشیر برائے جیل خانہ جات گل محمد جکھرانی نے کہا ہے کہ قیدیوں کی تعداد میں کمی کے لیے حکومت انہیں پیرول پر رہا کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

گل محمد جکھرانی کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے دوگنا قیدی پابند سلاسل ہیں۔ سندھ کی تمام جیلوں میں کل نو ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے، جبکہ اس وقت بیس ہزار قیدی موجود ہیں اور ججوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی سالوں سے زیرِ التوا مقدمات کی وجہ سے انہیں شدید مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے منگل کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عزیز اللہ میمن سےملاقات کی اور انہیں آگاہ کیا کہ سندھ کی پینتالیس عدالتوں میں ججوں کی آسامیاں خالی ہے جس کی وجہ سے قیدیوں کے مقدمات سے نمٹنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

گل محمد جکھرانی نے صحافیوں کو بتایا کہ چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد از جلد ان آسامیوں کو پر کیا جائے گا اور جن مقدمات کی جیلوں میں سماعت ہوتی ہے ان میں ججوں کی حاضری ضروری بنانے کے لیے اقدامات کیئے جائیں گے ۔

اندرون سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کے احتجاج اور قیدیوں کے چھتوں پر چڑھ جانے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں ان کے مقدمات کی سماعت نہیں ہوتی اور سہولیات بھی موجود نہیں۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ہر قیدی کے لیے سے تئیس روپے ادا کیے جاتے ہیں جو کہ ناکافی ہیں۔

صوبائی مشیر کا کہنا تھا کہ جن قیدیوں نے دو تہائی سزا پوری کرلی ہے انہیں فوری رہا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔

گل محمد جکھرانی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے عید، تہواروں اور خصوصی مواقعوں پر قیدیوں کو جو معافی دی جاتی ہے وہ کئی قیدیوں کو ملتی ہی نہیں ہے اور چار سال کی قید کاٹنے کے بعد بھی رہا ہونے میں قیدی کو ایک سو سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ حیدرآباد، سکھر اور خیرپور جیلوں میں کئی مرتبہ قیدیوں میں تصادم ہوچکے ہیں جبکہ شنوائی نہ ملنے پر جیل کی چھتوں پر چڑھ کر قیدیوں کے احتجاج کرنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں سکھر جیل میں قیدیوں کے احتجاج کا موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے نوٹس لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد