عید پر پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عید الفطر کے موقع پر صوبہ پنجاب اور سندھ کی جیلوں سے پانچ ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے تاکہ وہ یہ تہوار اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ منا سکیں۔ ان قیدیوں کی رہائی عید کے موقع پر صدر پاکستان کی جانب سے عمر قید کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی سزا میں تین جبکہ دیگر قیدیوں کی سزا میں ڈیڑھ ماہ کی رعایت کے حکم کے بعد عمل میں آئی ہے۔ صدرِ پاکستان کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلٰی نے بھی صوبے کی جیلوں میں قید افراد کی سزا میں کمی کا اعلان کیا ہے۔تاہم اس رعایت کا فائدہ ان قیدیوں کو نہیں ہو گا جو دہشتگردی، قتل، اغواء برائے تاوان، زنا حدود آرڈیننس اور دوسرے سنگین جرائم کے مقدمات میں قید ہیں۔ صوبہ پنجاب میں رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ صوبہ سندھ کی جیلوں سے صرف تراسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے جبکہ آٹھ سو سے زائد قیدیوں کو ان کی قید کی مدت میں ڈھائی مہینے کی رعایت ملی ہے۔ لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں سیشن جج صاحبان نے جیلوں میں خصوصی عدالتیں لگا ئیں اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید ڈیڑھ ہزار ملزموں کو ذاتی مچلکوں پر بری کیا گیا۔ لاہور کے سیشن جج نے دو سوباون قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد ان سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ ان سے اب دوبارہ جیل میں ملاقات نہیں ہوگی۔ انہوں نے قیدیوں کو نصیحت کی وہ کوئی برا کام نہ کریں تاکہ انہیں دوبارہ تھانہ، جیل اور عدالت کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ وزیراعلٰی پنجاب کی جانب سے سزا میں پانچ ماہ کی کمی کے وجہ سے مزید ایک ہزار افراد جیلوں سے رہا ہوئے۔ آئی جیل خانہ جات فاروق نذیر کے مطابق سب سے زیادہ رہائیاں ضمانتوں کی وجہ سے عمل میں آ سکیں کیونکہ عدالتوں نے غیرمعمولی طور پر زیادہ کام کیا۔ پنجاب بھر میں معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث افراد کے لواحقین اپنے مخالفین سے صلح کے لیے کوششیں کرتے اور ان منا کر عدالتوں سے ضمانتوں کی کوشش کرتے رہے۔
پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات فاروق نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو رات گئے تک پنجاب کی بتیس جیلوں سے رہائی کا یہ عمل جاری رہا اور منگل کو بھی یہی حال رہا۔ آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ اس عید پر ایک سو ایسے قیدی بھی رہا ہوئے جو اپنی قید تو پورے کرچکے تھے لیکن جرمانے اور دیت کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے کئی برس سے جیلوں میں بند تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس کام کے لیے ایک کروڑ روپے عطیات کی شکل میں ملے جبکہ دو کروڑ تیس لاکھ روپے وزیر اعلی پنجاب کے صوبدیدی فنڈ سے فراہم کیے گئے۔ تاہم حالیہ رہائیوں کے باوجود پنجاب بھر کی جیلوں میں ساٹھ ہزار افراد اب بھی قید ہیں جو عید کا دن سلاخوں کے پیچھےگزاریں گے۔ کراچی سے بی بی سی کے احمد رضا کے مطابق قیدیوں کے لیے اعلان کردہ رعایت کے نتیجے میں منگل کو کراچی سمیت صوبہ سندھ کی جیلوں سے تراسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے جبکہ آٹھ سو سے زائد قیدیوں کو ان کی قید کی مدت میں ڈھائی مہینے کی رعایت ملی۔ رہائی پانے والے تمام قیدی اپنی سزا کے آخری دن گزار رہے تھے۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات سندھ ممتاز برنی نے بی بی سی کو بتایا کہ رعایت کا فائدہ ان قیدیوں کو نہیں ہوا جو دہشتگردی، قتل، اغواء برائے تاوان، زنا حدود آرڈیننس اور دوسرے سنگین جرائم کے مقدمات میں قید ہیں۔ رہائی پانے والے قیدیوں میں کراچی جیل کے بارہ، ملیر جیل کے چالیس، حیدرآباد جیل کے دس، اسپیشل نارا جیل حیدرآباد کے پانچ، سکھر جیل ون کے چار، میرپورخاص کے تین اور سانگھڑ کا ایک قیدی شامل ہے جبکہ نوعمر قیدیوں کے لیے کراچی کی بچہ جیل کے نام سے مشہور یوتھفل آفینڈرز انڈسٹریل اسکول کے 6 قیدیوں کو بھی صدر مملکت کی اعلان کردہ رعایت کے نتیجے میں رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق عید کے موقع پر جیلوں کے اندر قیدیوں کے لئے تفریحی پروگرام تو ترتیب نہیں دیے گئے تاہم انہیں ملاقات کے لیے آنے والے رشتہ داروں سے ملاقات کی مکمل اجازت ہوگی۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں کل بیس جیلیں ہیں جن میں خواتین کی چار اور بچوں کی ایک جیل ہے اور صدر مملکت کی رعایت کے باوجود ساڑھے اٹھارہ ہزار سے زائد قیدی عید جیلوں کے اندر ہی عید گزاریں گے ان میں ایک سو چھہتر خواتین اور 39 بچے شامل ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ کی جیلوں سےتینتیس قیدی رہا26 May, 2008 | پاکستان پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم04 June, 2008 | پاکستان سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ17 June, 2008 | پاکستان سزائے موت عمر قید میں تبدیل21 June, 2008 | پاکستان سندھ جیل، گنجائش سےدوگنا قیدی01 July, 2008 | پاکستان پنجاب جیلوں میں آٹھ ہزار بچے قید22 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||