BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ

پھانسی گھاٹ
پاکستانی جیلوں میں گزشتہ برس ایک سو چونتیس افراد کو پھانسی دی گئی
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کی نئی حکومت سے سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں قید اکتیس ہزار چار سو سزا یافتہ افراد میں سے سات ہزار سزائے موت کے منتظر ہیں اور اس طرح کل سزا یافتہ قیدیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے ہیں جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان افراد میں زیادہ تر غریب اور ان پڑھ لوگ ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جنہیں صرف غیر مسلم ہونے کی وجہ سے امتیاز کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بعض کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر جیلوں میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں ایسے مقدمات کا سامنا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پچھلے سال تین سو نو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ایک سو چونتیس افراد کو پھانسی دی گئی۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر ایشیاء براڈ ایڈمز کا کہنا ہے ’پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اگر نئی حکومت واقعی انصاف میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اس ناقابل قبول صورتحال کو ختم کرنا چاہیے‘۔

تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جن کی سزا پاکستانی قانون کے مطابق موت ہے۔

اسی بارے میں
’سربجیت کو معاف کردیں‘
20 March, 2008 | پاکستان
اٹک جیل میں دو کو پھانسی
13 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد