سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کی نئی حکومت سے سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں قید اکتیس ہزار چار سو سزا یافتہ افراد میں سے سات ہزار سزائے موت کے منتظر ہیں اور اس طرح کل سزا یافتہ قیدیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے ہیں جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان افراد میں زیادہ تر غریب اور ان پڑھ لوگ ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جنہیں صرف غیر مسلم ہونے کی وجہ سے امتیاز کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بعض کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر جیلوں میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں ایسے مقدمات کا سامنا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پچھلے سال تین سو نو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ایک سو چونتیس افراد کو پھانسی دی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر ایشیاء براڈ ایڈمز کا کہنا ہے ’پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اگر نئی حکومت واقعی انصاف میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اس ناقابل قبول صورتحال کو ختم کرنا چاہیے‘۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جن کی سزا پاکستانی قانون کے مطابق موت ہے۔ | اسی بارے میں سربجیت سنگھ کی پھانسی ملتوی03 May, 2008 | پاکستان ’سربجیت کو معاف کردیں‘20 March, 2008 | پاکستان 2007 ملکی تاریخ کا بدترین سال14 April, 2008 | پاکستان گیارہ سال میں دس ہزار کو سزائے موت 10 October, 2007 | پاکستان اٹک جیل میں دو کو پھانسی13 June, 2007 | پاکستان سربجیت کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||