BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 00:28 GMT 05:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کا وجود خطرے میں‘
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں
امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔

لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔

امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔

واشنگٹن میں بی سی سی کے نامہ نگار براجیش اوپادھیائے کے مطابق پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔

نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔

شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔

پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

نیگرو پونٹے گزشتہ کچھ ماہ کے دوران کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں

لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔

جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔

ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کےکارروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔

تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔

جنرل پٹریئس نے گورڈن براؤن سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔

باؤچر(فائل فوٹو)’پاکستان سمجھے‘
’انتہاپسندی سے نمٹنے میں طاقت بھی ضروری‘
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان سےمعاہدہ
پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد