سندھ: دو دنوں میں دو احمدی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں گزشتہ دو دنوں کے دوران احمدیہ جماعت کے دو رہنماؤں کو قتل کیا گیا ہے جن میں سے ایک ڈاکٹر اور ایک تاجر تھے۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں کچھ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ پاکستان کے نو منتخب صدر آصف علی زرداری کے آبائی شہر نوابشاہ میں منگل کو نامعلوم افراد نے تاجر یوسف کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔ وہ احمدیہ جماعت نوابشاہ کے ضلعی امیر تھے۔ ان کے بیٹے آصف رانون ایڈووکیٹ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کے والد عبادت کے لیےگھر سے نکلے تھے کہ لیاقت مارکیٹ کے علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور بعد میں ہلاک ہوگئے۔ محمد یوسف نوابشاہ میں چاول کی تجارت سے منسلک تھے۔ اس واقعہ سے ایک روز قبل میرپور خاص شہر کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں فضل عمر میڈیکل سینٹر پر مسلح افراد کے حملے میں عبدالمنان صدیقی ہلاک ہوگئے۔ ان پر بھی موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں گیارہ گولیاں لگیں۔ احمدیہ کمیونٹی لندن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ منان صدیقی جماعت کے ریجنل صدر تھے ان کا قتل ایک مذموم مہم کا حصہ ہے۔ اس بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ انیس سو بیاسی سے پندرہ احمدی ڈاکٹروں کو قتل کیا گیا ہے۔ میرپورخاص پولیس نے ڈاکٹر منان کی ہلاکت کے بعد شہر میں موجود کچھ مدارس اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی کئی گئی ہیں جس کے خلاف مذہبی جماعتوں کی اپیل پر بدھ کو میرپورخاص میں مکمل طور ہڑتال کی گئی۔ فدائیان ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر مفتی عبدالحلیم ہزاروی، علامہ عقیل انجم قادری اور دیگر نے کراچی میں بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمنان اور محمد یوسف قادیانی کا قتل جماعت احمدیہ کی باہمی چپقلش کا نتیجہ ہے۔ امیر مفتی عبد الحلیم ہزاروی کے مطابق مسلمانوں نے سات ستمبر انیس سو چوہتر سے لیکر آج تک کبھی بھی احمدیوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے معاملامت کو چھیڑا ہے۔ جب یہ طے ہوگیا کہ وہ غیر مسلم اقلیت ہیں تو وہ دیگر اقلیتوں کی طرح اپنا وقت گزار رہے ہیں۔ انہوں نے اگر احمدی اپنے دائرے میں رہ کر اپنے معاملات کو چلائیں گے تو مسلمان ان کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سات ستمبر کو ختم نبوت پر پروگرام نشر کرنے والے چینلز اور میزبانوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کا اشارہ جیو ٹی وی کے پروگرام عالم آن لائن اور اس کے میزبان عامر لیاقت حسین کی طرف ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ تنظیمی نہیں مذہبی معاملہ ہے اور سیاسی جماعتیں اس سے دور رہیں۔ دوسری جانب ہانگ کانگ میں قائم انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے ایک اعلامیے میں الزام عائد کیا ہے کہ سات ستمبر کو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پروگرام میں احمدیوں کو واجب القتل قرار دینے کے بعد یہ دونوں واقعات پیش آئے ہیں اور حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ پنجاب میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر صوبہ سندھ میں ماضی قریب میں پہلی مرتبہ یہ انتہائی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سات ستمبر انیس سو چوہتر کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم اقلیتی قرار دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں میڈیکل کالج سے احمدی خارج05 June, 2008 | پاکستان ’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘04 February, 2008 | پاکستان ’طالبان کے ہاتھوں قادیانی کا اغواء‘21 May, 2007 | پاکستان سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ25 June, 2006 | پاکستان احمدی مسجد پر حملے کی مذمت08 October, 2005 | پاکستان مقتول احمدیوں کو دفنا دیا گیا07 October, 2005 | پاکستان احمدیوں کے خلاف نئی مہم؟14 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||