BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 June, 2008, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیکل کالج سے احمدی خارج

پنجاب میڈیکل کالج کی لسٹ
ان طلبہ کے ناموں کی لسٹ جنہیں کالج سے نکال دیا گیا
پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک میڈیکل کالج سے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طلبہ و طالبات کے نام خارج کردیے گئے ہیں۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کالج میں پیدا ہونے والے مذہبی تنازعہ کے بعد کیا گیا ہے۔ میڈیکل کالج میں یہ مذہبی کشیدگی چند روز سے پائی جا رہی ہے۔

جمعرات کو فیصل آباد کے پنجاب میڈیکل کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا اور پرنسپل کے دفتر کا گھیراؤ کیا گیا۔

مظاہرین نے اپنے ہی کالج کے ان طلبہ و طالبات کے خلاف نعرے بازی کی جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔

مظاہرے کے بعد کالج کے نوٹس بورڈ پر ان پندرہ طالبات اور آٹھ طلبہ کی فہرست آویزاں کردی گئی جنہیں کالج سے نکال دیا گیا ہے۔ نکالے جانے والوں میں فرسٹ ائر سے لیکر فائنل ائر تک کے سٹوڈنٹس ہیں اور تمام کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان کی جماعت کے چار طلبہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے ان کی مدد کی بجائے الٹا انہی کے نام خارج کر دئیے ہیں۔

پنجاب میڈیکل کالج
احمدی طلبہ کے خلاف کالج میں ہونے والا مظاہرہ

کشیدگی کاآغاز تین روز پہلے اس وقت ہوا جب جماعت احمدیہ کے طلبہ پر الزام لگا کہ وہ اپنے عقیدے کا پرچار کر رہے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے مخالف ایک طالبعلم خرم بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں ’اطلاع ملی تھی کہ کالج کی چند احمدی لڑکیاں اپنے عقیدے کی تبلیغ کر رہی ہیں اور چند پمفلٹ بانٹے جا رہے ہیں۔‘

اس کے جواب میں کالج میں ختم نبوت سے متعلق پوسٹر لگائے گئے۔ یہ پوسٹر اگلے ہی روز پھاڑ دئیے گئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے عہدیداروں نے اس کی ذمہ داری جماعت احمدیہ کے طالبعلموں پر عائد کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طالبعلم ذیشان کی جیب سے پھٹے ہوئے پوسٹر کے ٹکڑے برآمد ہوئے اور اس نے اس حرکت کا اعتراف بھی کیا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹر ان کی جماعت کے بانی کے خلاف تھے اور ان میں سے بھی صرف ایک کو پھاڑا گیا جسے توہین رسالت کا رنگ دیدیا گیا۔

پنجاب میڈیکل کالج
کالج کی انتظامیہ کا کہناہے کہ طلبہ کو مذہبی تنازعہ اور نفرت انگیز لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں نکالا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ طالبعلموں نے اپنے عقیدے کی کوئی تبلیغ کی نہ کوئی پمفلٹ بانٹا ان کا قصورصرف اتنا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

میڈیکل کالج کی انتظامیہ کا کہناہے کہ ان طلبہ کو مذہبی تنازعہ اور نفرت انگیز لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں کالج سے نکالا گیا ہے۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے اراکین کو سنہ انیس و تہتر میں غیر مسلم قرار دیدیا گیا تھا اور بعد میں جنرل ضیا کے دور میں جاری ہونے والے قانون کی رو سے ان پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

جماعت احمدیہ ان پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ادھر پنجاب کے ایک دوسرے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے ان پانچ افراد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے جن پر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ بیت الذکر میں فائرنگ کرکے آٹھ افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ ملزموں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے۔

جمعرات کو جب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کے بری کیے جانے کا فیصلہ سنایا تو انہوں نے فرطِ جذبات سے مذہبی نعرے لگائے اور ہتھکڑیوں سمیت سجدے میں گرگئے۔

اسی بارے میں
سلام کہنے پر دو سال سزا
05 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد