میڈیکل کالج سے احمدی خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک میڈیکل کالج سے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طلبہ و طالبات کے نام خارج کردیے گئے ہیں۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کالج میں پیدا ہونے والے مذہبی تنازعہ کے بعد کیا گیا ہے۔ میڈیکل کالج میں یہ مذہبی کشیدگی چند روز سے پائی جا رہی ہے۔ جمعرات کو فیصل آباد کے پنجاب میڈیکل کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا اور پرنسپل کے دفتر کا گھیراؤ کیا گیا۔ مظاہرین نے اپنے ہی کالج کے ان طلبہ و طالبات کے خلاف نعرے بازی کی جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔ مظاہرے کے بعد کالج کے نوٹس بورڈ پر ان پندرہ طالبات اور آٹھ طلبہ کی فہرست آویزاں کردی گئی جنہیں کالج سے نکال دیا گیا ہے۔ نکالے جانے والوں میں فرسٹ ائر سے لیکر فائنل ائر تک کے سٹوڈنٹس ہیں اور تمام کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان کی جماعت کے چار طلبہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے ان کی مدد کی بجائے الٹا انہی کے نام خارج کر دئیے ہیں۔
کشیدگی کاآغاز تین روز پہلے اس وقت ہوا جب جماعت احمدیہ کے طلبہ پر الزام لگا کہ وہ اپنے عقیدے کا پرچار کر رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے مخالف ایک طالبعلم خرم بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں ’اطلاع ملی تھی کہ کالج کی چند احمدی لڑکیاں اپنے عقیدے کی تبلیغ کر رہی ہیں اور چند پمفلٹ بانٹے جا رہے ہیں۔‘ اس کے جواب میں کالج میں ختم نبوت سے متعلق پوسٹر لگائے گئے۔ یہ پوسٹر اگلے ہی روز پھاڑ دئیے گئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے عہدیداروں نے اس کی ذمہ داری جماعت احمدیہ کے طالبعلموں پر عائد کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طالبعلم ذیشان کی جیب سے پھٹے ہوئے پوسٹر کے ٹکڑے برآمد ہوئے اور اس نے اس حرکت کا اعتراف بھی کیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹر ان کی جماعت کے بانی کے خلاف تھے اور ان میں سے بھی صرف ایک کو پھاڑا گیا جسے توہین رسالت کا رنگ دیدیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ طالبعلموں نے اپنے عقیدے کی کوئی تبلیغ کی نہ کوئی پمفلٹ بانٹا ان کا قصورصرف اتنا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میڈیکل کالج کی انتظامیہ کا کہناہے کہ ان طلبہ کو مذہبی تنازعہ اور نفرت انگیز لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں کالج سے نکالا گیا ہے۔ پاکستان میں جماعت احمدیہ کے اراکین کو سنہ انیس و تہتر میں غیر مسلم قرار دیدیا گیا تھا اور بعد میں جنرل ضیا کے دور میں جاری ہونے والے قانون کی رو سے ان پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جماعت احمدیہ ان پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ادھر پنجاب کے ایک دوسرے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے ان پانچ افراد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے جن پر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ بیت الذکر میں فائرنگ کرکے آٹھ افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ ملزموں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے۔ جمعرات کو جب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کے بری کیے جانے کا فیصلہ سنایا تو انہوں نے فرطِ جذبات سے مذہبی نعرے لگائے اور ہتھکڑیوں سمیت سجدے میں گرگئے۔ | اسی بارے میں ’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘04 February, 2008 | پاکستان 2007 ملکی تاریخ کا بدترین سال14 April, 2008 | پاکستان اقلیتوں کا دوہرے ووٹ کا مطالبہ18 December, 2007 | پاکستان احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال09 March, 2007 | پاکستان احمدیوں کا قتل: دو ملزم گرفتار19 July, 2006 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی کا ایک اور مقدمہ29 June, 2006 | پاکستان سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ25 June, 2006 | پاکستان سلام کہنے پر دو سال سزا05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||