’طالبان کے ہاتھوں قادیانی کا اغواء‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو مسلح مقامی طالبان نے احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص صاحبزادہ ایوب احمد کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا ہے۔ لکی مروت کے ضلعی رابطہ آفسر امیر لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی دوپہر ڈھائی بجے سرائے نورنگ میں قائم شفیع مارکیٹ میں چار مسلح نقاب پوش مقامی طالبان نے داخل ہوکر مارکیٹ کے مالک صاحبزادہ ایوب احمد کی دوکان کا دروازہ توڑ کر انہیں اغواء کرلیا۔ ان کے مطابق واردات کے بعد مغویان ضلع بنوں کے ایک نیم قبائلی علاقے کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ لکی مروت اور بنوں پولیس نے مشترکہ طور پر ایک آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے وہ بنوں کے درر دراز علاقے ’حوید‘ میں قائم مدرسہ گلزارالعلوم میں مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ضلعی رابطہ آفسر کا مزید کہنا تھا کہ صاحبزادہ ایوب احمد کے اغواء میں چند روز قبل گرفتار ہونے والے مقامی طالبان کے سربراہ قاری سرفراز کے ساتھی ملوث ہیں اور اس گروپ کے ارکان ہی نے موبائل کمپنی کے چھ اہلکاروں کو گزشتہ روز لکی مروت سے اغواء کر لیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں کرائے جاسکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اغواء ہونے والے صاحبزادہ ایوب احمد قادیانی ہیں جن کا تعلق سرائے نورنگ کےنار صاحبزادہ خوست میں گاؤں کوٹکئی سے ہے۔ تاہم امیر لطیف نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا البتہ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس گاؤں میں قادیانی فرقے کے کئی خاندان آباد تھے جن میں سے زیادہ تر علاقہ چھوڑ نے کے بعد صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’احمدی آسان ہدف بن چکے ہیں‘ 07 May, 2007 | پاکستان سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ25 June, 2006 | پاکستان ’احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال‘10 March, 2007 | پاکستان احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||