بیس طالبان ہلاک، پچیس اہلکار اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام نے ایک جھڑپ کے دوران تقریباً بیس مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے تاہم طالبان نے اس دعوی کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی کے طالبان نے تقریباً پچیس پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز اور مبینہ طالبان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جس میں بقول ان کے بیس مسلح طالبان مارے گئے ہیں۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ تحریکِ طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جھڑپ میں اپنے بیس ساتھیوں کی ہلاکت کے حکومتی دعوے کی تردید کی۔ انہوں نے جوابی دعوے میں کہا کہ طالبان نے بدھ کو دو درجن سے زائد اہلکاروں کو ایک الگ واقعہ میں مارا ہے جنکی لاشیں اب بھی ان کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ انہوں نے جمعرات کو درہ آدم خیل سے تین اہلکاروں کو اغواء کیا ہے۔ پاکستان فوج نے بھی طالبان کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔ آزاد ذرائع سے فریقین کے ان دعوؤں کو تصدیق نہیں ہوسکی ہے البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پہاڑوں پر موجود طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو بھاری توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹر سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کے بقول سکیورٹی فورسز کے ان حملوں میں کئی افراد ہلاک و زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں خاندانوں نے کوہاٹ کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ چند روز قبل کوہاٹ ٹنل کے قریب سکیورٹی فورسز پر ہونے والے خود کش حملوں کے بعد ٹنل کی بندش کی وجہ سےصوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کا شمالی حصے کے ساتھ رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی زیر تربیت پچیس اہلکاروں کو اورکزئی ایجنسی کی حدود میں مقامی طالبان نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔ ضلع ہنگو میں پولیس ٹریننگ کالج کے ایک اہلکار جہانزیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور سے ضلع ہنگو آنے والے یہ اہلکار دو دن قبل اغواء ہوئے تھے تاہم اس بارے میں انہیں اب پتہ چلا ہے۔ ان کے بقول پولیس کی زیر تربیت یہ اہلکار چھٹیاں گزارنے کے بعد کوہاٹ ٹنل کی بندش کی وجہ سے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے راستے ہنگو آ رہے تھے کہ اورکزئی ایجنسی کے حدود میں داخل ہونے کے بعد مسلح طالبان انہیں گاڑیوں سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اغواء ہونے والے اہلکاروں کی درست تعداد تو معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم انہیں جو اطلاعات ملی ہیں اس میں مغویان کی تعداد پچیس کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ابھی تک طالبان یا کسی دوسرے گروہ نے ان اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ادھر قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں فوجی حکام کے مطابق مسلح طالبان نے دو مختلف چیک پوسٹوں پر راکٹوں سے حملے کیے ہیں جن میں تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں گوادر بندرگاہ کے کنٹرول پر تنازع02 June, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل میں بھی’جنگ بندی‘28 May, 2008 | پاکستان اورکزئی: تصادم میں تین سے زائد ہلاک27 May, 2008 | پاکستان نوشہرہ: جھڑپ میں چار زخمی05 June, 2008 | پاکستان وزیرستان:نقصان کے اندازے کیلیےکمیٹی03 June, 2008 | پاکستان حکومت نواز طالبان پر حملے کریں گے02 June, 2008 | پاکستان مردان، لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ02 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||