گوادر بندرگاہ کے کنٹرول پر تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بیشتر قوم پرست رہنماوں نے پیپلزپارٹی کی طرف سے آئینی پیکیج میں گوادر پورٹ کے کنٹرول کو مرکز کے پاس رکھنے کی شدید مخالفت کرتے ہوے کہا ہے کہ چھ سال قبل صوبے اور مرکز کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ گوادر پورٹ تھا جس کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے صوبے میں فوجی آپریشن کا آ غاز کیا تھا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سرپرستِ اعلیٰ اور بزرگ سیاست داں سردار عطاءاللہ مینگل نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آئینی پیکیج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ چھ سال قبل ہی توبلوچستان کے عوام اور اسلام آباد حکومت کے درمیان جھگڑے کا آغاز توگوادر پورٹ کی تعمیر سے ہی شروع ہوا تھا ’ ہم کہتے تھے کہ گوادر پورٹ کی ملکیت اور انتظامی اختیار صوبے کی ہے مرکز کا اس میں دخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا میں زیادہ تر بندرگاہیں صوبوں کے ہوتی ہیں۔‘ سردار عطاءاللہ مینگل کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں مزید آبادی کی گنجائش نہیں رہی اس لیے پنجاب اور سندھ سے لوگوں کو یہاں لا کر آباد کرنے یہاں نئے کارخانے لگانے کامنصوبہ ہے اور اس وجہ سے مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ آسانی سے گوادر پورٹ کو بلوچستان کے حوالے نہیں کریں گے۔‘ ایک سوال کے جواب میں سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ ’مر کز میں چاہے پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا کسی اور کی، اس نے پنجاب کوخوش رکھنا ہوگا اور ان کی پالیسوں پر چلنا ہوگا تب جاکر وہ مرکز میں بیٹھ کر اس ملک پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔‘ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ڈپٹی چئیرمین اور سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل کا کہنا تھا یہ دراصل صوبائی خومختاری کامسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ حکومت کی جانب سے وسیم سجاد کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کو ان کی پارٹی نے بلوچستان کے حوالے سے جو سفارشات دیے تھے ان میں صرف چار شعبے یعنی دفاع ،خارجہ ،خزانہ اورکمیونیکیشن مرکز کے پاس رہنے چاہیے تاہم پورٹس پرٹیکسس کی آمدنی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہیے اور ضرورت کے مطابق صوبہ مرکز کوحصہ دے گا اور جو آئینی پیکیج لایا جا رہا ہے اس پرچاروں صوبوں اور ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کواعتماد میں لینا ہوگا۔ بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حاصل بزنجونے بتایا کہ گوادر پورٹ کا منصوبہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے شروع کیا تھا اور اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے گوادر پورٹ کا انتظام کراچی پورٹ کے حوالے کرنے کی تحریری احکامات بھی جاری کیے تھے پھر نواز شریف نے بھی ان اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا۔ حاصل بزنجونے کا کہنا ہے کہ’ ہم نے اس وقت قومی اسمبلی میں اس کی سخت مخالفت کی تھی اور ان دونوں کو کام سے روکا، اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس پورٹ کو دبئی سے زیادہ خوبصورت بنائیں گے اور اس کے لیے غیر ملکی سرمایہ کار اربوں ڈالر لا رہے ہیں اور یہاں ایک ماڈرن سٹی بنائیں گے اور اس طرح گوادر اسلام آباد کے زیر تسلط ہوگا۔ اِس کے خلاف چھ سال قبل پہلا احتجاجی مظاہرہ گوادر میں ہوا تھا جس سے سردار عطاءاللہ مینگل نے لندن سے اور نواب بگٹی نے ڈیرہ بگٹی سے ٹیلی فون پر خطاب کیا تھا ۔اور وہاں سے ہی ساحل اور وسائل پر بلوچستان کے حق حاکمیت کا مطالبہ اٹھا تھا جو آگے جا کر بلوچستان میں فوجی آپریشن کا نتیجہ بنا تاہم اس جھگڑے کی بنیاد بھی بے نظیر بھٹو کے وہ تحریری احکامات تھے جس کے تحت وہ گوادر کو کر اچی پورٹ کے حوالے کرنا چاہتی تھیں۔‘ حاصل بزنجونے نےمزید کہا کہ ’اب ایک طرف زرداری مصالحت کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف گوادر پورٹ اور کوسٹل ہائی وے کا اختیار اسلام آباد کے کنٹرول میں دینا چاہتے ہیں جس سے بلوچستان اور مرکز کے درمیان مصالحت کی بجائے ایک نئی جنگ چھڑجائے گی۔‘ اس سلسلے میں جب پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نوابزادہ لشکری رئیسانی سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ میں مقامی لوگوں کوحصہ دیا جائے گا تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ حصہ کس قسم کا ہوگا۔ | اسی بارے میں گوادر بندرگاہ:پہلا جہاز پہنچ گیا14 March, 2008 | پاکستان بلوچستان سے فوج ہٹانے کا مطالبہ30 May, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان ’مذاکرات سے پہلے آپریشن بند کریں‘24 April, 2008 | پاکستان گوادر، بے روزگاروں کا مظاہرہ05 April, 2007 | پاکستان گوادر، ریسورس سینٹر کا معاہدہ13 April, 2007 | پاکستان ہنگو اور حب میں دھماکے، 33 ہلاک19 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||