گوادر بندرگاہ:پہلا جہاز پہنچ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ نے جمعہ سے کام شروع کر دیا ہے۔ پہلا جہاز ستر ہزار ٹن سے زیادہ گندم لے کر بندرگاہ پر پہنچا ہے۔ مقامی لوگوں نے روزگار کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سے بڑی تعداد میں مزدوروں اور ٹرکوں کو گوادر لایا گیا ہے۔ بلوچستان کے نگراں وزیر اعلی سرداد صالح بھوتانی نے گوادر میں بحری جہاز کو خوش آمدید کہا ہے۔گوادر سے ٹیلیفون پر نگراں وزیر اعلی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بحری جہاز پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی زیادہ مقدار میں گندم لایا ہے اور اس سے وقت اور اخراجات کی بچت ہوگی۔ سردار صالح بھوتانی کے مطابق یہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے خوشی کا مقام ہے کیونکہ اس سے معاشی سرگرمیاں ہوں گی، ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا اور گندم اتارنے اور آگے لے جانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بندرگاہ کی شِپمنٹ کے لیے جب کنٹریکٹ دیا گیا تو یہ سترہ ڈالر فی ٹن کم قیمت پر لیا گیا ہے جس سے نو کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے اس کے علاوہ مزدوروں کو فی بوری پندرہ روپے مزدوری دی جائے گی اور اس جہاز میں ساڑھے چھ لاکھ گندم کی بوریاں ہیں تو مزدوروں اور دیگر لوگوں کو روزگار ملے گا اور گوادر کے علاوہ بلوچستان کی معیشت بہتر ہوگی۔ سردار صالح بھوتانی کے مطابق پورٹ قاسم پر صرف تیس ہزار ٹن تک کے جہاز آسکتے ہیں اور پورٹ قاسم پر عملدرآمد کرنے کے لیے دس سال لگ گئے تھے۔ یاد رہے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے گزشتہ سال گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ کا افتتاح کیا تھا اور اس بندرگاہ کو بلوچستان اور پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ اس بارے میں مقامی صحافی بہرام بلوچ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ مقامی لوگوں اور خصوصاً مزدوروں میں تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ مزدوروں کے مطابق کراچی سے گزشتہ روز مزدوروں سے بھری ہوئی دس بسیں گوادر پہنچی ہیں اور اس کے علاوہ ٹرک مالکان نے کہا ہے کہ کراچی سے ٹرک لاکر مقامی لوگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان مں قوم پرست جماعتیں انھی خدشات کا اظہار کرتی آئی ہیں کہ باہر سے لوگوں کو لاکر یہاں گوادر میں آباد کیا جائے گا جس سے مقامی لوگ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے اور اس حوالے سے کئی احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں بھی کی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں گوادر پورٹ کی تکمیل، جلد افتتاح 03 February, 2007 | پاکستان بندرگاہ کا افتتاح، پیکج کا اعلان20 March, 2007 | پاکستان چینی وزیر اعظم گوادر کیوں نہ گئے02 May, 2005 | پاکستان گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال 16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||