BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرِ اعظم کی گاڑی پر حملہ

وزیرِ اعظم
وزیرِ اعظم کی گاڑی پر دو گولیاں لگی ہیں
اسلام آباد ہائی وے پر بدھ کے روز وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی گئی جس میں وزیر اعظم سمیت ان کے قافلے میں موجود تمام افراد محفوظ رہے۔

فائرنگ میں وزیر اعظم کی گاڑی پر بھی گولیاں لگیں۔ یہ حملہ اسلام آباد ہائی وے پر فصائیہ کالونی کے پاس پیش آیا۔

اس سلسلے میں اسلام آباد کے تھانہ کرال میں نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

لیکن ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس اس بات پر ناخوش ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ پنڈی کی حدود میں پیش آیا لیکن مقدمہ اس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

سی پی او راولپنڈی راؤ اقبال کے مطابق فائرنگ فضائیہ کالونی کے قریب واقع ایک پہاڑی سے کی گئی جو پنڈی کی سرحدی حدود میں واقع ہے۔

اس واقعہ کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات شیری رحمان کے مطابق وزیر اعظم کے قافلے پر حملہ اُس وقت ہوا جب وہ سید یوسف رضا گیلانی کو لینے چکلالہ ائربیس پر جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اُس وقت وزیر اعظم اس قافلے میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم متبادل روٹ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم معمول کے کاموں میں مصروف ہیں۔ وزیر اطلاعات نے اس واقعہ کو بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔

دوسری طرف وزیر اعظم ہاؤس کے میڈیا آفس کی طر ف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے وزیر اعظم کے قافلے پر فائرنگ کر دی جس میں وزیر اعظم اور اُن کے قافلے میں موجود افراد محفوظ رہے۔

گاڑی پر حملہ
وزیرِ اعظم کے قافلے میں موجود ہونے یا نا ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی کی گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی لاہور میں تھے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم بدھ کے روز لاہور گئے تھے جہاں پر انہوں نے ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات کی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کہ جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور اس واقعہ کے بعد پولیس نے اُس علاقے کو گھیرے میں لیکر اُن مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے جنہوں نے وزیر اعظم کے قافلے پر فائرنگ کی ہے۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس ضمن میں پولیس ریسرچ بیورو کے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد