BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک شخص گرفتار: مشیرداخلہ

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء
ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے تین لاکھ اور زخمی ہونے والوں کے لیے ایک لاکھ کا اعلان
پاکستانی حکومت کے مشیر داخلہ رحمن ملک نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ جمعرات کے روز واہ آرڈیننس فیکٹری کے باہر ہونے والے خُود کش حملوں کے بعد ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے قبضہ سے خُودکش حملے میں استعمال ہونی والی جیکٹ اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے شخص کا نام وحید اللہ ہے اور اس کا تعلق وزیر ستان سے بتایا جاتا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس مبینہ خودکش حملہ آور کو مقامی لوگوں نے پکڑ کر سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا۔

پولیس نے اُس مسجد کے خطیب اور خادم کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے جس کے باہر سے مبینہ خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا گیا۔ ملز م کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اُدھر اس ملزم نے دوران تفتیش اُن خودکش حملہ آوروں کے نام بھی بتائے ہیں جن کو پولیس خفیہ رکھ رہی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اُن کا تعلق بھی وزیر ستان سے ہی ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سڑسٹھ بتائی ہے جبکہ اس سے پہلے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ ستر لوگ ہلاک ہوئے۔

رحمن ملک نےاسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس کے تین ساتھیوں نےجمعرات کے روز خود کو واہ آرڈیننس فیکٹری کے باہر دھماکہ سے اُڑا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم نے کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں جس کے بارے میں ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت باجوڑ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے خُود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے یکساں پالیسی بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ روز واہ آرڈیننس فیکٹری کے باہر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے تین لاکھ اور زخمی ہونے والوں کے لیے ایک لاکھ کا اعلان کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان خودکش حملوں میں سٹرسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل رحمان ملک نے ان دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ ملک کو طالبان کے حوالے کردیں یا اُن کا مقابلہ کریں اور حکومت اُن کا مقابلہ کرے گی۔

اُدھر ان خودکش حملہ آوروں کے چہروں کو اکٹھا کر کے ملٹری ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے جہاں پر اُن کے چہروں کی دوبارہ سرجری کی جائے گی جس کے بعد ان کے خاکے تیار کروائے جائیں گے۔ اُدھر ان خودکش حملہ آوروں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی نمونے لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں۔

ایف آئی اے کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے ماہر آئندہ چند روز میں ایک رپورٹ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کو دے گا جس میں بتایا جائے گا کہ ان خودکش حملوں میں کتنی مقدار میں آتش گیر مادہ استعمال ہوا ہے۔ اُدھر ملزم کی نشاندہی پر پولیس کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں روانہ کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال شدت پسندوں نے راولپنڈی میں تین سے زائد مرتبہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
فائل فوٹوپاکستان سرِفہرست
پاکستان خودکش حملوں میں سر فہرست آگیا
خودکش حملہایک اور خودکش حملہ
ڈی آئی خان میں خودکش حملہ: تصاویر میں
مشرف دور میں خودکش حملے، بم دھماکےمشرف دور کا تحفہ
مشرف دور میں خودکش حملے، بم دھماکے
اسی بارے میں
حب میں کار بم دھماکہ
13 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد