BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یو این سے تحقیقات پر خدشات کیوں؟

بینظیر بھٹو(فائل فوٹو)
پی پی پی درخواست کی تفصیلات اسمبلی اور عوام کے سامنے نہیں لائی
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی درخواست پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ سابق وزیر اعظم کی ہلاکت کے بعد کی جانے والی پہلی پریس کانفرنس میں اس وقت کی حکومت کی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیا تھا۔ تاہم حکومت میں آنے کے بعد اس مطالبے کی قرارداد کو قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں منظور کیا گیا۔

’فیصلہ یو این کے ہاتھ میں‘
 ’اس تحقیق کی درخواست دینے کے بعد اس کمیشن کے مینڈیٹ اور حدود کے بارے میں پاکستان نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل فیصلہ کرے گی۔ اور اس درخواست کو لے کر کل کو پاکستان کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جن کو اس وقت نظر انداز کیا جا رہا ہے
تیمور ملک
اقوام متحدہ سے تحقیق کی درخواست کے بارے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیا گیا کہ نہ تو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اور نہ ہی پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان اس بات کے حق میں تھے کہ اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ پاکستان کی حساس تنصیبات تک کی رسائی مانگی جا سکتی ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سے تحقیقات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر اور لاہور میں قائم ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر تیمور ملک کا اس تحقیق کے حوالے سے کہنا ہے ’اس تحقیق کی درخواست دینے کے بعد اس کمیشن کے مینڈیٹ اور حدود کے بارے میں پاکستان نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل فیصلہ کرے گی۔ اور اس درخواست کو لے کر کل کو پاکستان کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جن کو اس وقت نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘

کمیشن کا اختیار
 جب حکومت یہ کہے گی کہ القائدہ کا ہاتھ ہے یا طالبان کا لیکن اس کا تعین اقوام متحدہ کا کمیشن کرے گا تو کیا وہ ان علاقوں میں نہیں جائیں گے اور کیا وہ سکیورٹی اہلکاروں کو انٹرویو نہیں کریں گے جو ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں ملوث ہیں
حمیرا چوہدری
بیرسٹر ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت سکیورٹی کونسل کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ ان کے قائم کردہ کمیشن کو کیا اختیارات ہوں گے اور کیا نہیں۔ ’ایک بار درخواست دے دی اور اس پر سکیورٹی کونسل کمیشن تشکیل دے دیتا ہے تو پاکستان کا کردار اس کمیشن کے مینڈیٹ کے بارے میں ختم ہو جائے گا۔ اس کمیشن کا مینڈیٹ سکیورٹی کونسل وضح کرے گی اور اس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔‘

بین الاقوامی قانون کی ماہر حمیرا چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر قانون یہ کہہ چکے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا یا کسی اور کا یہ معلوم کرنا کمیشن کا کام ہو گا۔ یہ کہہ کر تو پاکستان خود ہی اس کمیشن کو وسیع مینڈیٹ دے رہا ہے۔

ظاہر ہے جب حکومت یہ کہے گی کہ القاعدہ کا ہاتھ ہے یا طالبان کا لیکن اس کا تعین اقوام متحدہ کا کمیشن کرے گا تو کیا وہ ان علاقوں میں نہیں جائیں گے اور کیا وہ سکیورٹی اہلکاروں کو انٹرویو نہیں کریں گے جو ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں ملوث ہیں۔

بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ مان لیا کہ ابتدائی مرحلے میں اقوام متحدہ مینڈیٹ محدود ہی رکھے لیکن جب چھ یا ایک سال بعد اس کمیشن کے کام میں توسیع کی جائے گی اور اس وقت سکیورٹی کونسل اس کے مینڈیٹ کو وسیع کر دے تو پاکستان کیا کرے گا۔

’پاکستان پھنس چکا ہے‘
 وزیر قانون فاروق نائیک نے بائیس مئی کو ایک پریس بریفنگ میں خود کہا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس وسائل نہیں کہ اتنی بڑی تحقیق کر سکیں، اس بات کو لے کر کل کو اقوام متحدہ کا کوئی رکن ملک کہہ سکتا ہے کہ چونکہ پاکستان خود ہی تسلیم کر چکا ہے کہ اس کی تحقیقاتی اور سکیورٹی فورسز کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں اس لیے پاکستان میں اقوام متحدہ کی فورس پاکستان بھیجنی چاہیے جو کہ اس ملک میں قائم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تفتیش کر سکے۔اس وقت پاکستان دفاع میں کیا کہے گا؟
تیمور ملک
جہاں تک مستقبل میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا تعلق ہے تو بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ وزیر قانون فاروق نائیک نے بائیس مئی کو ایک پریس بریفنگ میں خود کہا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس وسائل نہیں کہ اتنی بڑی تحقیق کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو لے کر کل کو اقوام متحدہ کا کوئی رکن ملک کہہ سکتا ہے کہ چونکہ پاکستان خود ہی تسلیم کر چکا ہے کہ اس کی تحقیقاتی اور سکیورٹی فورسز کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں اس لیے پاکستان میں اقوام متحدہ کی فورس پاکستان بھیجنی چاہیے جو کہ اس ملک میں قائم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تفتیش کر سکے۔

اس وقت پاکستان دفاع میں کیا کہے گا؟

دوسری طرف حیرت اس بات کی ہے کہ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر تو پاکستان کی دو بڑی جماعتوں کے قائدین نہ صرف معاہدے کرتے ہیں اور پاکستان اور بیرون ملک گھنٹوں طویل ملاقاتیں کرتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے پر حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز بالکل خاموش ہے۔ اور پیپلز پارٹی نے اس درخواست کی تفصیلات کو اسمبلی اور عوام کے سامنے لانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔

کیا پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنی سوچ و فکر صرف صدر مشرف اور ججوں کی بحالی تک محدود کی ہوئی ہے؟ کمیشن کی درخواست کے سلسلے میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تو پیپلز پارٹی نے آئینی پیکیج کی کاپی نہیں بھجوائی ابھی تک، یہ تو دور کی بات۔ ابھی ہم آئینی پیکیج کو نمٹا لیں تو پھر دیکھیں گے اس کو۔‘ (یہ بات انہوں نے اس وقت کی تھی جب نون لیگ کو آئینی پیکج موصول نہیں ہوا تھا)

حکومتی اتحادی جماعت جمیعت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر اقوام متحدہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کہ وہ ملک جو کہ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا حلیف ہے وہ سات سال بعد یہ کہہ رہا ہے کہ جن افراد کے خلاف وہ اول کا حلیف ہے ان کی تحقیقات کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ کہیں یہ تحقیق بین الاقوامی افواج کا پاکستان میں آنے کی وجہ نہ بن جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد