یو این سے تحقیقات پر خدشات کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی درخواست پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ سابق وزیر اعظم کی ہلاکت کے بعد کی جانے والی پہلی پریس کانفرنس میں اس وقت کی حکومت کی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیا تھا۔ تاہم حکومت میں آنے کے بعد اس مطالبے کی قرارداد کو قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں منظور کیا گیا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سے تحقیقات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر اور لاہور میں قائم ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر تیمور ملک کا اس تحقیق کے حوالے سے کہنا ہے ’اس تحقیق کی درخواست دینے کے بعد اس کمیشن کے مینڈیٹ اور حدود کے بارے میں پاکستان نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل فیصلہ کرے گی۔ اور اس درخواست کو لے کر کل کو پاکستان کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جن کو اس وقت نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘
بین الاقوامی قانون کی ماہر حمیرا چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر قانون یہ کہہ چکے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا یا کسی اور کا یہ معلوم کرنا کمیشن کا کام ہو گا۔ یہ کہہ کر تو پاکستان خود ہی اس کمیشن کو وسیع مینڈیٹ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے جب حکومت یہ کہے گی کہ القاعدہ کا ہاتھ ہے یا طالبان کا لیکن اس کا تعین اقوام متحدہ کا کمیشن کرے گا تو کیا وہ ان علاقوں میں نہیں جائیں گے اور کیا وہ سکیورٹی اہلکاروں کو انٹرویو نہیں کریں گے جو ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں ملوث ہیں۔ بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ مان لیا کہ ابتدائی مرحلے میں اقوام متحدہ مینڈیٹ محدود ہی رکھے لیکن جب چھ یا ایک سال بعد اس کمیشن کے کام میں توسیع کی جائے گی اور اس وقت سکیورٹی کونسل اس کے مینڈیٹ کو وسیع کر دے تو پاکستان کیا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کو لے کر کل کو اقوام متحدہ کا کوئی رکن ملک کہہ سکتا ہے کہ چونکہ پاکستان خود ہی تسلیم کر چکا ہے کہ اس کی تحقیقاتی اور سکیورٹی فورسز کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں اس لیے پاکستان میں اقوام متحدہ کی فورس پاکستان بھیجنی چاہیے جو کہ اس ملک میں قائم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تفتیش کر سکے۔ اس وقت پاکستان دفاع میں کیا کہے گا؟ دوسری طرف حیرت اس بات کی ہے کہ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر تو پاکستان کی دو بڑی جماعتوں کے قائدین نہ صرف معاہدے کرتے ہیں اور پاکستان اور بیرون ملک گھنٹوں طویل ملاقاتیں کرتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے پر حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز بالکل خاموش ہے۔ اور پیپلز پارٹی نے اس درخواست کی تفصیلات کو اسمبلی اور عوام کے سامنے لانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔ کیا پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنی سوچ و فکر صرف صدر مشرف اور ججوں کی بحالی تک محدود کی ہوئی ہے؟ کمیشن کی درخواست کے سلسلے میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تو پیپلز پارٹی نے آئینی پیکیج کی کاپی نہیں بھجوائی ابھی تک، یہ تو دور کی بات۔ ابھی ہم آئینی پیکیج کو نمٹا لیں تو پھر دیکھیں گے اس کو۔‘ (یہ بات انہوں نے اس وقت کی تھی جب نون لیگ کو آئینی پیکج موصول نہیں ہوا تھا) حکومتی اتحادی جماعت جمیعت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر اقوام متحدہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کہ وہ ملک جو کہ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا حلیف ہے وہ سات سال بعد یہ کہہ رہا ہے کہ جن افراد کے خلاف وہ اول کا حلیف ہے ان کی تحقیقات کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ کہیں یہ تحقیق بین الاقوامی افواج کا پاکستان میں آنے کی وجہ نہ بن جائے۔ | اسی بارے میں بینظیر تحقیقات،وزیرِ خارجہ امریکہ میں08 July, 2008 | پاکستان اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا اعلان 22 May, 2008 | پاکستان یو این تحقیقات کے لیے تیاریاں جاری08 May, 2008 | پاکستان ’بینظیر قتل کی تحقیقات ہوں گی‘29 April, 2008 | پاکستان اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ09 April, 2008 | پاکستان ’یو این بینظیرقتل کی تحقیقات کرے‘14 April, 2008 | پاکستان ’اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائیں‘ 02 January, 2008 | پاکستان ’قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں‘03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||