یو این تحقیقات کے لیے تیاریاں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ تاہم اس کے بارے میں حکومت کب عالمی ادارے سے رجوع کرے گی اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق سے جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس بارے میں دریافت کیا گیا کہ یہ کب تک ممکن ہوسکے گا تو انہوں نے بتایا کہ اس سے متعلق وزارت خارجہ تیاریوں میں مصروف ہے تاہم ابھی اسے حتمی شکل دیا جانا باقی ہے جس کے بعد ہی اقوام متحدہ سے رابطہ کیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں کسی تاریخ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے گزشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اس بابت قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد جلد خود اقوام متحدہ لے کر جائیں گے۔ محمد صادق کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی قرار داد کے بارے میں سب جانتے ہیں تاہم دیگر لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی وہ ان عناصر تک نہیں پہنچ پائے گی جو بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھے لہذا اقوام متحدہ سے تحقیقات لازمی ہیں۔ تاہم اس بارے میں اسے انہیں کئی حلقوں سے مخالفت کا سامنا ہے جن میں بعض اخباری اطلاعات کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزارت خارجہ کے سابق سیکرٹری ریاض محمد خان بھی شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے ممبئی میں سفارت خانہ کھولنے کے لیے عارضی جگہ کی تلاش شروع کر دی ہے البتہ اس اقدام سے جناح ہاؤس کے حصول سے متعلق بھارتی حکومت سے درخواست اپنی جگہ قائم رہے گی۔ محمد صادق نے بتایا کہ پاکستان کے دلی میں ہائی کمشن کے اہلکار جلد ممبئی کا دورہ کریں گے تاکہ کرائے یا فروخت کے لیے دستیاب چند جگہوں کا جائزہ لے سکیں۔ جیسے ہی کوئی مناسب جگہ پسند آجائے گی تو پاکستان اپنا کونسل خانے کھول دے گا۔ تاہم ترجمان نے واضع کیا کہ کونسل خانے کے لیے جناح ہاؤس کے حصول کی درخواست بدستور قائم رہے گی۔ جناح ہاؤس انیس سو چھتیس میں دو لاکھ روپے کی مالیت سے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی رہائش گاہ تھی۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ محمد علی جناح کی بیٹی کے درمیان اس جائیداد پر تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ بھارت میں ایک پاکستانی قیدی محمد اکرم کی ہلاکت کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسے امرتسر کی جیل میں رکھا گیا تھا اور وہ چھبیس اپریل کو گرو نانک دیو ہسپتال میں چل بسا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ہائی کمشن کے اہلکاروں کو اس ہلاکت کے بارے میں اس وقت اطلاع دی گئی جب وہ چند دیگر قیدیوں سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام سے محمد اکرم کی ہلاکت کے وجوہات بتانے اور میت جلد پاکستان روانہ کرنے کے لیئے کہا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں‘03 January, 2008 | پاکستان متحدہ بھی یو این تحقیقات کی حامی31 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل میں کون ملوث ہے؟07 February, 2008 | پاکستان تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ11 January, 2008 | پاکستان بینظیر اب ایک ’برانڈ نیم‘ بن گیا22 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل کیس کا چالان پیش 01 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||