BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکے، کئی افراد حراست میں

 کراچی سات جولائی کے دھماکے
دھماکے کے ایک مقام پر کئی موٹر سائیکلیں تباہ ہو گئیں
کراچی میں پیر کے روز ہلکی نوعیت کے سات بم دھماکے ہوئے جس کے بعدکئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ضلع غربی میں ہونے والے ان دھماکوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔

صوبہ سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خٹک نے بتایا کہ ان دھماکوں میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ان سے قبل سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بتایا تھا کہ ان دھماکوں میں دو جانی ضائع ہوئی ہیں۔

سید قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ زخمیوں میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں سے متاثر ہونے والے افراد میں زیادہ تر غریب لوگ ہیں۔

سیکریٹری داخلہ سندھ عارف احمد خان نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں کم شدت کے سات بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر راہگیر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دھماکے کم شدت کے بموں سے کیے گئے ہیں جو مختلف جگہوں پر نصب کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ادھر آئی جی پولیس سندھ بابر خٹک نے ان واقعات کو تخریب کاری قرار دیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں پانچ افراد کو حراست لیا گیا ہے۔

وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کوشش ہو رہی ہے کہ حکومت کو غیرمستحکم کیا جائے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کراچی میں دھماکے کے ایک مقام پر ملبہ اور سامان بکھرا پڑا ہے
انہوں نے کہا کہ یہ واقعات شہر میں لسانی جھگڑے کرانے کی کوشش ہے۔ ’یہ وہ عناصر ہوسکتے ہیں جو حکومت کو بھی غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں اور کراچی میں بھی امن دیکھنا نہیں چاہتے۔‘

وزیر اعلی نے تحقیقات کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو دو دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔

ادھر دھماکوں کے بعد متاثرہ علاقوں کے مشتعل لوگوں نے ہنگامہ آرائی کی ہے۔

آئی جی سندھ صلاح الدین بابر کے مطابق یہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے جن سے تقریباً پچیس افراد زخِمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں میں یکسانیت یہ تھی کہ یہ تمام دھماکے کراچی کے ضلع غربی میں ہوئے اورایسا لگتا ہے کہ خوف و ہراس پھیلانا مقصد تھا۔

ڈی آئی جی کراچی علیم صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں اور کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں کی شدت بہت کم تھی۔ انہوں نے کہا زخمیوں کے پیروں اور کمر پر چھوٹے چھرے اور کیل نکالے گئے ہیں۔

ہسپتال سے ہمارے نامہ نگار نے پتایا کہ عباسی شہید ہسپتال سینتیس زخمی لائے گئے ہیں۔ ہسپتال کے باہر ایک بڑی تعداد میں لال ٹوپیاں پہنے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان موجود ہیں۔

انہوں نے ہسپتال کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور میڈیا سمیت کسی کو اندر نہیں جانے دے رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو ایمرجنسی کے سامنے سے ہٹنے کا بھی کہہ رہے ہیں تاکہ زخمیوں کی آمد میں کوئی خلل نہ پڑے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد