ایمرجنسی وارڈ میں زخمیوں کا رش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
'باچا خان چوک پر بہت زوردار دھماکہ ہوا تھا اور پندرہ بیس منٹ کے بعد قریب ہی مارکیٹ میں ایک اور دھماکہ ہوا جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور اس میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔‘ یہ الفاظ زیب اللہ خان کے تھے جو کراچی میں دھماکوں کے وقت باچا خان چوک کے قریب موجود تھے اور دھماکوں میں زخمی ہونے والوں میں سے ایک کو اپنےساتھ لے کر عباسی شہید ہسپتال پہنچے تھے۔ زیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کے قریب ہونے والے دھماکے میں زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ دھماکہ زیادہ طاقتور تھا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تمام دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے۔ کراچی میں سات مختلف مقامات پر دھماکوں کے بعد عباسی شہید ہسپتال میں چیختی چنگھاڑتی ایمبولینسوں کا تانتا بندھ گیا جو یکے بعد دیگرے زخمیوں کو لے کر آرہی تھیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ایمرجنسی وارڈ میں طبی امداد پہنچائی جا رہی تھی۔ ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کے دروازے پر رینجرز تعینات تھے جبکہ ان کی مدد کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے رضاکار لال ٹوپیاں پہنے رینجرز کا ہاتھ بٹا رہے تھے اور میڈیا کے لوگوں سمیت کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کو ایمرجنسی وارڈ میں جانے سے روک رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ کے داخلی دروازے پر رش کی وجہ سے ایمبولینسوں سے وارڈ تک مریضوں کو اسٹریچر پر لانے میں بھی مشکلات درپیش آرہی تھیں اور رضاکار بار بار لوگوں سے پیچھے ہٹنے اور راستہ دینے کی التجا کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ افراد کو رضا کاروں سے الجھتے بھی دیکھا گیا لیکن رینجرز کے اہلکاروں نے معاملہ سنبھال لیا۔ عباسی شہید ہسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن لیاقت میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں کل اکتالیس زخمیوں کو مختلف مقامات سے لایا گیا ہے جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے تاہم ان کے زخم بھر جانے کے امکانات روشن ہیں۔ دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کے زخموں کی نوعیت کے بارے میں ہسپتال کے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر سید مظہرالدین نے بتایا کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کو لوہے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لگے ہیں جبکہ بھگدڑ مچ جانے کی وجہ سے بھی چند افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوہے کے ٹکڑے جسم کے مختلف حصوں میں پائے گئے ہیں اور یہ ٹکڑے ابھی لیباریٹری ٹیسٹ کے لئے بھیجے جائیں گے جہاں اس بات کا پتہ کیا جائے گا کہ یہ کس قسم کے ٹکڑے ہیں۔ ہسپتال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی اور ان میں غم و غصہ کو محسوس کیا جاسکتا تھا جو کسی بھی وقت مشتعل ہوسکتے تھے۔ تاہم پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو امن و امان برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر ہسپتال کے باہر تعینات کردیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں خود کش حملہ،19ہلاک07 July, 2008 | پاکستان اسلام آباد:ہلاکتیں بیس، تحقیقات جاری07 July, 2008 | پاکستان پشاور: بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک27 January, 2007 | پاکستان سرحد دھماکوں کے تانے دور تک07 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: دھماکے میں پانچ ہلاک 02 March, 2008 | پاکستان ڈیرہ بگٹی کے قریب دھماکے20 May, 2008 | پاکستان ڈیرہ مرادجمالی میں دھماکہ، تین ہلاک07 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||