BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی کے قریب دھماکے

پائپ لائن
بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان کا دعوی ہے کہ سندھ سے پنجاب جانے والی تیل کی پائپ لائن کو راجن پور میں گوٹھ صفدر کے قریب دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی اور پنجاب کے شہر راجن پور کے سرحدی علاقوں میں چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق ایک پائپ لائن اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ڈیرہ بگٹی شہر سے سرچ آپریشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

جہاں دھماکے ہوئے وہ علاقہ تینوں صوبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ ان دھماکوں سے کم سے کم تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ سندھ سے پنجاب جانے والی تیل کی پائپ لائن کو راجن پور میں گوٹھ صفدر کے قریب دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جبکہ کچھی کینال پر کام کرنے والی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول اور دو گاڑیوں کو بارودی سرنگوں سے اڑایا گیا ہے۔ سرباز بلوچ کے مطابق یہ گاڑیاں سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھیں اور ان دھماکوں سے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری سطح پر رینجرز کے ایک اہلکار کی ہلاکت اور دو ٹھیکیداروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ سرکاری زرائع کے مطابق اس کارروائی میں دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی شہر میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے جہاں مقامی لوگوں کے مطابق لوگوں کا سامان گھروں سے باہر پھینکا جا رہا ہے ۔ اس آپریشن کے دوران اب تک سات افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ ادھر پٹ فیڈر کے قریب لنجو صغاری کے علاقے کو فرنٹیئیر کور کے اہلکاروں نے سیل کر دیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس علاقے میں کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس بارے میں صوبائی وزیر داخلہ سے رابطے کی کئی کوشش کی گئیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ ایک ہفتہ پہلے اس علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور پچاس کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ادھر جمہوری وطن پارٹی کے رہنما عبدالقادر قلندرانی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بگٹی قبیلے کے تین بے گناہ افراد کو آگ لگانے کے واقعہ پر سارا میڈیا خاموش رہا ہے جبکہ کراچی میں دو ڈاکوؤں کو جلانے کے واقعے پر ذرائع ابلاغ پرگھنٹوں بحث کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس چشم پوشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بگٹی قبیلے کے افراد کو جلائے جانے کے واقعہ کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کسی ایسے واقعے میں ملوث نہیں رہیں۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی دھماکہ: دو ہلاک
18 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد