BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 January, 2008, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاہان اور ڈیرہ بگٹی میں کارروائی

بلوچ مزاحمت کار (فائل فوٹو)
پہلی مرتبہ کالعدم بلوچ آرمی کے ترجمان نےمسلح قبائلیوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی فراہم کی ہے
بلوچستان کے علاقہ کاہان اور ڈیرہ بگٹی میں دوسرے روز بھی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کارروائی اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں مقامی لوگوں کے مطابق ایک مکان پرگولہ گرنےسے تین بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔

کوہلو سے لوگوں نے بتایا ہے کہ کاہان کے قریب دیہات بھمبھور ’ تراتانی، ڈاہو، ہسپوڑ اور سورے کور سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جہاں سکیورٹی فورسز نےمبینہ طور پر جیٹ طیاروں اور زمین سے گولہ باری کی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ہسپوڑ میں ایک گھر پر گولہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں تین بچے اور ایک خاتون شامل ہے۔

مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے جہاں سکیورٹی فورسز نےگزشتہ روز ایک سو کے لگ بھگ افراد کوگرفتار کر کے نامعلوم مقام پر پہنچایا ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے جمہوری وطن پارٹی کےضلعی صدر شیر محمد بگٹی نے بتایا ہے کہ زین کوہ اور دیگر قریبی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نےشدید حملے کیے ہیں۔

ادھر اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نا معلوم مقام سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کی کاہان سے ملنے والے سرحدی علاقے زین کوہ کے قریب سیکیورٹی فورسز نے شدید بمباری کی ہے جہاں فورسز اور مسلح قبائلیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سرباز بلوچ کے مطابق اس جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے دو درجن سے زیادہ اہلکار اور ان کی تنظیم کے چھ مسلح مزاحمت کار ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے یہ پہلا موقع ہے جہاں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان نے مسلح قبائلیوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی فراہم کی ہے۔

اس بارے میں سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی جا رہی۔مبینہ فوجی کارروائی کی اطلاعات گزشتہ روز بھی ملی تھیں جہاں مقامی لوگوں کے مطابق گیارہ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے تھے لیکن کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی صرف مقامی پولیس نے ہی کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد