’نفرت تھی، اس لیے دھماکہ کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ قلعہ سیف اللہ کے مدرسے میں بم دھماکہ کرنے والے ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے نفرت کی بنیاد پر مدرسے میں دھماکہ کیا۔ کوئٹہ میں قلعہ سیف اللہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالغفور کاسی نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ملزم بلوچستان کے علاقہ دکی کا رہنے والا ہے لیکن افغانستان آتا جاتا رہا ہے ۔ پولیس نے ملزم نے تفتیش کی ویڈیو تیار کی ہے جو صحافیوں کو دکھائی گئی جس میں وہ دھماکے کے حوالےسے تفصیل بتا رہا ہے۔ ڈی آئی جی سے جب پوچھا کہ مدرسے میں زیر تعلیم معصوم بچوں پر حملے کا مقصد کیا تھا تو انھوں نے کہا کہ ملزم نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ اسے ان لوگوں سے نفرت ہے اس لیے اس نے حملہ کیا ہے۔ یاد رہے ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ مدرسے میں قیام کرنے والا ملزم دھماکہ خیز مواد مدرسے میں چھوڑ گیا تھا جس کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا ہے اور اس سے چھ کم عمر طالبعلم ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ ملزم کا نام عبدالخالق بتایا گیا ہے اور پولیس کے مطابق مدرسے کے بچوں نے اس کی شناخت کرلی ہے کہ اس نے اس مدرسے میں قیام کیا تھا۔ عبدالغفور کاسی نے بتایا کہ ملزم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے مدرسے میں قیام کیا اور صبح چلا گیا تو اور چار گھنٹے کے بعد واپس آیا اور مدرسے میں اس وقت دستی بم پھینکا جب بچے کھانا کھا رہے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم عبدالخالق نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ وہ حملے سے ایک رات پہلے افغانستان کے علاقہ اعلی جرگہ سے قلعہ سیف اللہ پہنچا تھا اور دستی بم افغانستان سے ساتھ لایا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے کشمیر اور افغانستان کے جہادی گروہوں کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا ہے اور افغان پولیس میں کچھ عرصہ کے لیے ملازمت بھی کی ہے۔ ڈی آئی جی عبدالغفور ہوتی نے بتایا کہ ملزم سے مذید تفتیش کی جارہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کے اس حملے کے پیچھے کیا مقاصد تھے اور آیا ملزم کے دیگر ساتھی بھی ہیں اور یا اس نے اکیلے ہی یہ کارروائی کی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: بارودی سرنگ کا دھماکہ01 December, 2007 | پاکستان مدرسےمیں ’دھماکے‘ 30 ہلاک19 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں جسم فروش بچے18 November, 2007 | پاکستان راستے کھل گئے، طلباء مدرسے میں21 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری04 November, 2007 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||