BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ آدم خیل میں کشیدگی

فائل فوٹو
طالبان نے حکومت سے بات چيت کے بعد جنگ بندی کا اعلان کررکھاہے
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل اور ضلع ہنگو میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد کوہاٹ اور ہنگو میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں مرکزی شاہراہیں بھی بند کردی گئی ہیں۔

درہ آدم خیل کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو کوئلے کا کاروبار کرنے والے اورکزئی ایجنسی کے علاقے کلایہ کے چار ٹرک ڈرائیوروں کو درہ آدم خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بدھ کی صبح شیراکی کے علاقے سے مغویوں میں سے ایک کی لاش ملی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے جبکہ دیگر تین افراد بدستور لاپتہ ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اس قتل اور اغواء کو فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ قرار دیا ہے۔

ادھر کوہاٹ کے علاقے استرزئی سے موصولہ اطلاعات میں پولیس کا کہنا ہے کہ درہ آدم خیل میں ہلاک کئے جانے والے شخص کی لاش جب استرزئی پہنچی تووہاں لوگ مشتعل ہوئے اور سڑکوں پر نکل کر ہنگو جانے والے کئی ڈرائیوروں کو یرغمال بنایا۔

تھانہ استرزئی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے یرغمالیوں کی شناخت کے بعد تمام افراد کو چھوڑ دیا تاہم درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرائیور کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ ہنگو کوہاٹ سڑک پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی معطل ہوگئی ہے۔

دریں اثناء صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح شاہو خیل کے علاقے کچیئی وام میں پیش آیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس قتل کے بعد ہنگو میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ بازار اور تجارتی مراکز بھی بند ہوگئے۔

واضح رہے کہ درہ آدم خیل میں اس سے پہلے فرقہ وارانہ نوعیت کے اغواء اور قتل کے واقعات ہوچکے ہیں جو اکثر اوقات کوہاٹ، ہنگو ، کرم اور کزئی ایجنسیوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سبب بنتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
نوشہرہ: جھڑپ میں چار زخمی
05 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد