BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 June, 2008, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبائلی علاقوں میں آپریشن جلد‘

رحمان ملک
رحمان ملک نے فوجی آپریشن متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا
پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ آئندہ چند روز میں قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیا جائےگا، جس میں سول فورسز شریک ہوں گی جبکہ فوج مدد کے لیے موجود رہے گی، تاہم انہوں نے آپریشن کی تفیصلات بتانے سے گریز کیا۔

کراچی کے ساحلی علاقے میں جمعہ کو منشیات کی ایک بھاری مقدار تلف کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر داخلہ نہ کہا کہ فرنٹیئر کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے جتنا اس کو کچھ لوگ بنا رہے ہیں۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ انتہا پسندوں کو سمجھنا چاہیئے کہ اس وقت پاکستانی فوج جاگ اٹھی ہے، فاٹا میں بھی لوگ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں کیونکہ اسلام کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے ملک میں امن امان کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ اگر فرنٹیئر آپریشن کا کراچی یا پشاور میں کوئی رد عمل ہوا تو اس کے لیے حکومت تیار ہے۔

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موجودہ اتحادی حکومت کے قیام سے قبل پنجاب اور سندھ میں روز دھماکے ہو رہے تھے اب ان دھماکوں میں چھیانوے فیصد کمی ہوئی ہے، موجودہ حکومت کے دور میں صرف اسلام آباد میں ڈنمارک کی سفارتخانے میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس کے ملزمان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

رحمان ملک نے کہا کہ بم دھماکوں میں ملکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا تاثر بے بنیاد ہے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جائے گا کہ ملک کی ہر ایجنسی اور قانون نافذ کرنے والا ادارا ایک چھتری کی نیچے متحد ہے، چاہے وہ فوج، سول فورس یا پیرا ملٹری فورس ہو۔

مشیر داخلہ کے مطابق کسی صوبائی معاملے میں مداخلت نہیں کی جا رہی ہے، وفاقی حکومت صرف صوبوں کو مدد فراہم کر رہی ہے چاہے انہیں فوج کی مدد درکار ہو یا لیویزجو کچھ مطلوب ہے فراہم کیا جا رہا۔

ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار کے بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جب بھی پوست کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے پاکستان کے لیے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو شاہراہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ہم نے افغانستان حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرے اور پوست کی کاشت میں کمی لائی جائے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں پوست کی کاشت نہیں ہوگی تو پھر چرس اور ہیروئن کا یہاں سے گذر نہیں ہوگا۔ منشیات کی وجہ سے پاکستان اور اس کی نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد