جمہوریت کا حُسن بلامقابلہ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس جون کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ان نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں جن پر یا تو اٹھارہ فروری 2008 کو پولنگ نہیں ہوسکی تھی یا یہ نشستیں ایک سے زیادہ حلقوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں نے خالی کی ہیں۔ پاکستان الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی سات پنجاب اسمبلی کی سولہ، سرحد اسمبلی کی سات جبکہ سندھ اور بلوچستان میں تین تین نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ مارچ میں منتخب حکومتوں کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عدلیہ، صدارتی منصب، مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ بنتے بگڑتے تعلقات اور معاشی بحرانوں کے تناظر میں ایسی دھول اڑی ہے کہ ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم میں روایتی جوش و خروش پیدا نہیں ہو سکا۔ تاہم اس دوران ضمنی انتخابات کے ذیل میں کچھ ایسے واقعات ضرور رونما ہوئے ہیں جنہیں صحافت کی سکہ بند لغت میں دلچسپ کہا جاتا ہے۔ 28 مئی کو لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نشست NA-207 پر پیپلز پارٹی کی امید وار فریال تالپور کو بلا مقابلہ منتخب قرار دیا گیا۔ فریال تالپور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرپرسن آصف علی زرداری کی بہن ہیں۔ دو جون کو اعلان ہوا کہ پنجاب اسمبلی کی نشست PP-48 بھکر سے مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے تمام حریف امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میاں شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹیفیکشن فوراً جاری کر دیا گیا اور اسمبلی کا حلف اٹھانے سے لے کر وزیر اعلیٰ کا انتخاب لڑنے، تک حلف اٹھانے اور اعتماد کا ووٹ لینے تک کے تمام مراحل ایک ہفتے کے اندر مکمل ہو گئے۔ بیس جون کو خبر آئی کہ لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست NA-119 سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار حمزہ شہباز بھی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں۔ ایک دن بعد پرچہ لگا کہ رحیم یار خان سے پنجاب اسمبلی کی نشست 295 PP- پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی بھی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔
انتخابات میں حصہ لینا اور پولنگ سے قبل کسی بھی مرحلے پر مقابلے سے دستبردار ہونا امیدوار کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ چنانچہ ان چاروں امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے پر قانونی اعتبار سے انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ تاہم ان امیدواروں کی سرکردہ سیاسی خاندانوں سے وابستگی اور بلا مقابلہ منتخب ہونے کے لئے درجنوں حریف امیدواروں کی یکے بعد دیگرے دستبرداری میں تجزیہ کاروں کے لیے قیاس آرائی کا بہت کچھ سامان موجود ہے اور ہماری سیاسی تاریخ میں اس کی کچھ ناخوشگوار نظائر بھی موجود ہیں۔ جنوری 1977ءمیں بھٹو صاحب نے اسمبلی تحلیل کر کے عام انتخابات کا اعلان کیا تو کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی آخری تاریخ 19جنوری قرار پائی۔ 20جنوری کی صبح ملک کے تمام اخبارات میں بھٹو صاحب کی ایک ہی جیسی تصویر کم و بیش ایک جیسے تحسینی القابات کے ساتھ شائع ہوئی کیونکہ الیکشن کمیشن کے مطابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ کی آبائی نشست سے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ یہ وہ نشست تھی جہاں ذوالفقار علی بھٹو تو ایک طرف ، بھٹو خاندان کا کوئی ملازم بھی انتخاب لڑتا تو اسے شکست نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن اڑچن یہ تھی کہ قومی اتحاد اس نشست پر مولانا جان محمد عباسی کی امیدواری کا اعلان کر چکا تھا۔جماعت اسلامی کے رکن مولانا جان محمد عباسی کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے کچھ روز قبل اچانک غائب ہو گئے۔ الزام یہ تھا کہ انہیں پولیس نے اغوا کر کے اس وقت تک اپنی تحویل میں رکھا جب تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم نہ ہو گیا۔ لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر خالد احمد کھرل تھے جو محترمہ بے نظیر کے دوسرے دور اقتدار میں وزیر اطلاعات بھی رہے۔ عام تاثر یہ تھا کہ خالد کھرل نے وزیر اعظم کی نظروں میں چڑھنے کے لئے ان کے علم میں لائے بغیر جان محمد عباسی والی کارروائی کر کے گویا ان کے نادان دوست کا کردار ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم مشکوک حالات میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تو سندھ کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفی جتوئی، وزیر اعلیٰ پنجاب صادق قریشی اور وزیر اعلیٰ سرحد نصر اللہ خٹک بھی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ بلا
پاکستان میں سیاسی ثقافت پر جاگیردارانہ ذہنیت کی چھوٹ پڑتی ہے اور جمہوری اقدار کی تفہیم کبھی بھی قابل رشک نہیں رہی۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ جنوری 1965ءکی اس شام جب ملک بھر کی سرکاری مشینری نے ایوب خان کو بنیادی جمہوریت کے 80 ہزار ارکان کے ووٹ دلانے میں سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی ایوب خان اپنی کامیابی پر خوش ہونے کی بجائے جز بز ہو رہے تھے کہ ان کی کامیابی کا تناسب حسب منشاء حد تک یک طرفہ نہیں تھا۔ بعد کے برسوں میں 1984ء کے ریفرنڈم میں ضیاءالحق کے حاصل کردہ 95 فی صد ووٹ اور 2002ءمیں پرویز مشرف کے98 فی صد ووٹ دیکھیں تو ایوب خان کا گلہ ناقابل ِفہم نہیں رہتا ۔ اس ہفتے منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کے رجحان میں پہلا قابل غور پہلو تو یہی ہے کہ دو نشستیں مسلم لیگ نواز کے مقتدر خاندان نے جیتی ہیں اور دو نشستیں پیپلز پارٹی کے مقتدر ترین رہنماؤں کے اہل خانہ نے۔ فی الحال اس سوال کا حتمی جواب ممکن نہیں کہ کیا حریف امیدواروں کو دھمکا یا گیا یا ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ تاہم انتخابی نفسیات کی روشنی میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یقینی ناکامی کے امکان کے باوجود انتخابی امیدوار میدان میں موجود رہتے ہیں۔ کم از کم اس طرح جوق در جوق دستبردار نہیں ہوتے۔ اس سے جمہوری عمل کے نئے مرحلے میں ایک ناقابل رشک مثال قائم ہوئی ہے۔ حکمران اتحاد کے قائدین بار بار جمہوریت کے نادیدہ دشمنوں کی سازشوں نیز آمریت کی باقیات کا ذکر کر چکے ہیں۔ اگر آمریت کی یہ باقیات کسی طویل قیلولے میں نہیں تو انہوں نے فرد جرم کی محضر میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کا یہ رجحان قلمبند کر لیا ہو گا۔ ہماری سیاسی ثقافت میں سیاسی رہنماؤں سے لے کر کارکنوں تک کسی گھسی پٹی اصطلاحات کو بغیر سوچے سمجھے دہرانے کا چلن پایا جاتا ہے۔ ضیاءالحق کے عشرہ زیاں میں ہر عبقری ضابطہ حیات کی تلوار لہراتے ہوئے نمودار ہوتا تھا۔ 1988میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو ہر شہسوار مزاحمت کا رزمیہ پڑھتا گھر سے برآمد ہوتا تھا۔ آج کل مفاہمت کی تشبیب پر زور ہے۔ اگر حکمران اتحاد میں مختلف مسائل پر اختلاف پایا جاتا ہے تو یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے ۔ آٹا مہنگا ہے تو یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ بچیوں کے سکول تباہ کرنے والوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی اور جاگیردارانہ رعونت میں کوئی میل نہیں۔ جمہوریت کی خوبصورتی بلا مقابلہ منتخب ہونے میں نہیں۔ جمہوریت کی خوبصورتی قانون کی پاسداری اور عوامی رائے کو اس طرح تسلیم کرنے میں ہے جیسے آٹھ برس پہلے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں قریب ترین مقابلے کے بعد ناکام ہونے والے ڈیمو کریٹک امیدوار الگور نے پھر کبھی بھولے سے بھی انتخابی تنازع کا ذکر نہیں کیا۔ جمہوریت ایک خوبصورت اجتماعی عمل ہے جس کی بنیاد انسانی مساوات، فکری تنوع اور قانون کی بالادستی پر ہے۔ جاگیردارانہ رعونت ، خاندانی تفاخر اور جمہوری ضابطوں سے رو گردانی جیسے پسماندہ رویوں کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ | اسی بارے میں سپیکر،ڈپٹی سپیکر بلامقابلہ منتخب06 April, 2008 | پاکستان پنجاب میں سپیکر و ڈپٹی بلا مقابلہ11 April, 2008 | پاکستان ’شہباز بِلامقابلہ ایم پی اے‘02 June, 2008 | پاکستان حمزہ بلامقابلہ رکن اسمبلی منتخب20 June, 2008 | پاکستان ’ناظم ق لیگ کا مگر کنٹرول فریال کا‘29 May, 2008 | پاکستان جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد16 March, 2007 | پاکستان سندھ: 596 امیدوار بلامقابلہ منتخب08 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||