’اگر صدر کو نہ ہٹایا تو لانڈھی جیل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر وہ اور نواز شریف دونوں مل کر صدر مشرف کو ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو دونوں لانڈھی جیل کراچی میں بند ہوں گے۔ تاہم انہوں یہ واضع نہیں کیا کہ صدر مشرف کو کب اور کیسے ہٹایا جائیگا۔ بینظیر بھٹو کی 55 سالگرہ کے موقع پر نوڈیرو ہاؤس میں صحافیوں سے مختصر بات چیت کے دوران آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو قتل کی تفتیش اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے حکومتی نمائندے اور وہ خود دوست ممالک میں لابنگ کر رہے ہیں اور جلد ہی ان کوششوں کے نتائج سامنے آجائیں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشی عناصر ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے سرگرم ہیں اور ان کی سازشی سوچوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بینظٌیر بھٹو کی ہلاکت بھی ان سازشوں کا حصہ تھی تاکہ پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے۔ مگر بینظیر بھٹو نے اپنے سوچ اور نظریات سے ان سازشوں کو ناکام بنایا۔ آصف زرداری نے کہا کہ جب انہوں نے بینظیر کے سوئم کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کھپے یعنی پاکستان چاہیے تو وہ انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بینظیر بھٹو کی ہدایت پر کہا تھا۔ آصف زرداری نے معزول ججوں کی بحالی پر مسلم لیگ نواز سے اپنےاختلافات کی تردید کی اور کہا کہ نواز شریف سے ان کے مذاکرات نہیں تعلقات ہیں جو جاری رہیں گے۔ ’مذاکرات مکمل ہوجاتے ہیں مگر تعلقات جاری رہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ لاہور میں حالیہ چار دن کے دورے میں وہ دو دن میاں نوازشریف کے ساتھ رہے اور ہوسکتا ہے کہ آئندہ جب وہ لاہور جائیں تو وہ گورنر ہاؤس میں نہیں نوازشریف کے فارم ہاؤس جاتی امراء میں قیام کریں۔انہوں نہ کہا کہ ان دونوں کا سفر جمہوریت کی طرف سفر ہے اور وہ جلد قوم کو خوشخبریاں دیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ جلد ہی پیپلزپارٹی کے کسی کارکن کو ملک کا صدر بنایا جائیگا۔ ’بالکل اسی طرح جس طرح یوسف رضا گیلانی کو بنایا گیا ہے۔‘ آصف علی زرداری نے کہا کہ ’جہاں انٹلکیٹ ختم ہوتا ہے وہاں سے بھٹواز شروع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے مچھر کالونی کا بھٹو بھی زندہ ہے تو وانا اور کشمیر کابھٹو بھی زندہ ہے۔‘ آصف زرداری نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ بینظیر بھٹو کےمخالف صرف دنیا کی نظروں میں زندہ ہیں ہماری نظر میں وہ موجود ہی نہیں ہیں۔انہوں نے ایک صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ہم قتل نہیں ہوتے شہید ہوتے ہیں۔ آصف زرداری نہ کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہوں اور کارکنان نے اپنے لہو کا نذرانہ دیکر پاکستان کو قائم رکھا ہے۔اسی لیے انہوں نے اپنے کارکنان کو ہدایات کیں کہ وہ عمران خان کے کینسر ہسپتال پہنچ کر بھی اپنے خون کے عطیات جمع کروائیں تاکہ ان میں اور ہم میں فرق ظاہر ہو۔ آصف زرداری نے کہا کہ ’یہی فرق ہے کہ ہم مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اور وہ زندہ ہیں تو بھی مرے ہوئے۔‘ |
اسی بارے میں بینظیر سالگرہ ،خون کا عطیہ اور گلدستے21 June, 2008 | پاکستان ’پی پی، نون لیگ میں ہم آہنگی نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||