BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 June, 2008, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: زبانوں کو خطرات پر کانفرنس

نئی حکومت کے قیام کے بعد ثقافتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں
پاکستان کے صوبہ سرحد میں دور روزہ فرنٹیئر لینگویجز اینڈ کلچرل کانفرنس شروع ہوگئی ہے جس میں تیس زبانوں کے محققین، ادباء اور فنکار شرکت کر رہے ہیں۔

پشاور کے نشتر ہال میں منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس کا اہتمام ہندکو بورڈ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

ہندکو بورڈ کے وائس چیئرمین ڈاکٹرعدنان گل نے بی بی سی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے دوہزار آٹھ کو مادری زبانوں کا سال قرار دیے جانے کے بعد انہوں نے صوبہ سرحد میں بولی جانے والی تیس زبانوں کے محققین، ادباء اور فنکاروں کی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے تاکہ زبان اور ثقافت کو درپیش خطرات پر سیر حاصل بحث ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق بولی جانے والی ہر زبان و ثقافت کے تحفط کی ذمہ داری آئین کے مطابق حکومت پر عائد ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ سال سے اس جانب توجہ نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر بولی جانے والی زبانوں اور ثقافتوں کا وجود خطرات سے دوچار ہے۔

کانفرنس کی افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب اور کالم نگار ڈاکٹر ظہور اعوان نے صوبہ سرحد میں بولی جانے والی زبانوں اور یہاں پر موجود تاریخی مقامات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پشاور میں واقع تاریخی قلعہ بالاحصار سے فرنٹئر کور کو نکالا جائے اور دیواروں پر لگائے گئے مصنوعی توپیں ہٹاکر اس سے سیاحوں کے لیے کھول دیا جائےجس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ باہر سے آنے والوں کو اس خطے کی تاریخی اہمیت کااندازہ بھی ہوجائے گا۔

اس دوروزہ کانفرنس کے دوران پشتو، ارود، ہندکو، سرائیکی اور دیگر زبانوں کے معروف محققین اور ادباء اپنے مقالے پیش کریں گے جبکہ فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی دوررِ حکومت میں تفریحی اور ثقافتی سرگرمیاں کم ہوگئی تھیں تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد تقافتی پروگراموں کے مرکز نشتر ہال کو دوبارہ کھولنے کے بعد تفریحی اور ثقافتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر فیشن شوز کا انعقاد بھی ہوا ہے۔

اسی بارے میں
پشتونوں کا تھنک ٹینک
11 May, 2008 | پاکستان
پہلا نجی پشتو چینل
01 July, 2004 | پاکستان
کراچی کا کوچۂ ثقافت
16 May, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد