BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 January, 2005, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمسن گلوکاروں کا ’جوڑہ گلونہ‘

طارق اور ذیشان
طارق اور ذیشان کی تصویریں دیوار پر آویزاں
طارق حسین اور ذیشان معشوم پشتو گائیکی میں دو نئی آوازیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں ان کم عمر نوجوانوں کی دو مشترکہ البم ’جوڑہ گلونہ‘ کے نام سے بازار میں آئی ہیں۔ تیسری البم بھی جلد ہی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔

اس البم میں آڈیو کے ساتھ ساتھ ویڈیو بھی ہے۔ ان کی ایک آڈیو کیسٹ بھی مارکیٹ میں آچکی ہے۔

چودہ سالہ طارق حسین اور گیارہ سالہ ذیشان معشوم پشتو گائیکی میں نیا اضافہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان ننھے گلوکاروں نے قلیل عرصے میں اپنے لیے ایک مقام بنا لیا ہے۔ آج انہیں ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ باہر بھی سنا اور پسند کیا جانے لگا ہے۔ طارق چند روز قبل ہی دوبئی میں دو پروگرام کرکے واپس لوٹے ہیں۔

ان سے ملاقات کے لیے میں مقررہ وقت پر تاریخی قصہ خوانی کی پشت پر کباڑی بازار میں پہنچا تو طارق اپنے گروپ کے دیگر نوجوانوں اور والد کے ساتھ بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے۔ تنگ سے کمرے میں ٹی وی اور سی ڈی پلیئر کے علاوہ طارق کی چند تصاویر اور سی ڈیز کے کور دیواروں پر آویزاں تھے۔ بالا خانے کے دیگر کمروں سے ہارمونیم اور رباب کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔

طارق اور ذیشان
طارق اور ذیشان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

ایک سرکاری سکول میں پانچویں جماعت کے طالب علم طارق نے بتایا کہ وہ بچپن سے خیال محمد، علی حیدر اور شبنم جیسے گلوکاروں کو سنتا تھا جس سے وہ بھی گائیکی کی جانب راغب ہوا۔

طارق کے والد اس کی ابتدائی کامیابیوں سے کافی خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی کوشش ہے بیٹے کو شو بزنس کی دیگر صنفوں میں بھی طبہ آزمائی کرنی چاہیے۔ ’انشا اللہ اسے پورے مواقعے فراہم کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ یہ ٹی وی، فلموں اور شاعری میں بھی قسمت آزمائے‘۔

جب پوچھا گیا کہ کیا تعلیم اس کے لیے وہ ضروری نہیں سمجھتے تو ان کا کہنا تھا کہ جس روز تعلیم میں اس کی گائیکی کی وجہ سے فرق آیا وہ اس روز اس کا گانا بند کر دیں گے۔

’جب میں نے اس کو کہا کہ تم گاؤ گے ہمارے لیے، کیونکہ یہی ہماری روزی روٹی ہے لیکن تعلیم اپنے لیے حاصل کرو گے تو اس نے مجھ سے کہا کہ ابو میں گانا اپنے لیے گاؤں گا مگر تعلیم آپ کے لیے حاصل کروں گا‘۔

طارق کا موقف ہے کہ گانے کا اس کی تعلیم پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ سکول ہر روز جاتا ہوں جبکہ ’پروگرام’ کبھی کبھی ہوتا ہے۔

طارق پشتو کے ایک نجی ٹی وی چینل کے لیے ڈرامے میں بھی کام کر چکا ہے۔

جوڑا گلونہ کا دوسرا گلوکار ذیشان معشوم ہے جس نے پولیو کی وجہ سے دو برس قبل ٹانگیں تو کھو دیں لیکن شوق نہیں۔ پہلی کلاس کے اس طالب علم نے پہلا گانا آٹھ برس کی عمر میں گایا۔ اس نے کہا کہ اسے غزل گانا اچھا لگتا ہے۔

’شاعر جو شعر لاتا ہے اسے مزے سے کیسٹ میں گا دیتا ہوں۔ مجھے اس شاعری کی زیادہ نہیں لیکن تھوڑی بہت سمجھ آ ہی جاتی ہے‘۔

ذیشان کے والد شاہ جہان نے کہا کہ انکا بیٹا ایک پیدائشی گائیک ہے اور سوتے، جاگتے، کھیلتے اور سکول جاتے بھی گانا گاتا رہتا ہے۔

ذیشان کا والد بیٹے کی معذوری سے بھی انتہائی فکرمند ہے اور کسی ایسے مخیر شخص کی راہ تک رہا ہے جو اسکا علاج کرا سکے۔

’میری اتنی طاقت نہیں کہ اس کا علاج کرا سکوں۔ اسے کب تک میں اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر گھومتا رہوں گا۔ کب تک؟‘

شاہ جہان اس تاثر سے سو فیصد متفق نظر آتے تھے کہ پختون معاشرے میں موسیقی کو تو پسند کیا جاتا ہے موسیقار کونہیں۔ ان کے بقول فن کی اصل پہچان اٹک کے اس پار ہی ہے۔

جہانزیب سی ڈی سینٹر ان کم عمر فنکاروں کی سی ڈیز تیار کر کے فروخت کرتے ہیں۔ اس کے مالک جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ اب تک وہ پہلے والیم کے پانچ چھ ہزار جبکہ دوسرے کے سات یا آٹھ ہزار سی ڈیز فروخت ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد