پاکستان اور ایران: ثقافتی پیش رفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایران اور پاکستان کے دو سرکاری ثقافتی اداروں نے تعاون اور اشتراک کی ایک دستاویز پر دستخط کئے ہیں۔ لاہور آرٹ کونسل کی جانب سے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر خالد مسعود چوہدری اور ایران کے ثقافتی ادارے اکنامک کواپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کلچرل سنٹر کی جانب سے ادارے کے صدر ڈاکٹر محمد راجبی نے دستخط کئے۔ تہران میں قائم ای سی او یعنی اکنامک کواپریشن آرگنائزیشن خطے کا ایک اہم ادارہ ہے اور پاکستان کے علاوہ اس کے ارکان میں ایران، ترکی، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، کرغیزستان، قزاقستان اور افغانستان شامل ہیں۔ اس ادارے کے تحت یہ ممالک صنعت و تجارت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ آرٹ، کلچر اور مشترکہ ثقافتی ورثے سے تعلق رکھنے والے معاملات کی نگرانی ای سی او کا کلچرل انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے۔ تہران کے اس ثقافتی ادارے نے پنجاب کے ثقافتی مرکز لاہور آرٹس کونسل کے ساتھ تعاون اور اشتراک کی خواہش کا اظہار پچھلے برس کیا تھا۔ چنانچہ حکومتِ پاکستان اور مرکزی وزارتِ خارجہ کی باضابطہ اجازت کے بعد لاہور میں ایک تقریب کے دوران ای سی او کلچرل سینٹر تہران اور لاہور آرٹس کونسل کو جڑواں ادارے قرار دیا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرٹس کونسل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر خالد مسعود چوہدری نے اسے ایک اہم ثقافتی پیش رفت قرار دیا۔ ای سی او کے صدر ڈاکٹر محمد راجبی نے اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خطّے کے ممالک مغربی دنیا کے بارے میں تو بہت معلومات رکھتے ہیں لیکن خود اپنے ہمسایہ ملکوں کے طرزِ بود و باش اور روایات و ثقافت سے لا علم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران، ترکی، افغانستان، پاکستان اور ادارے میں شامل سابق سوویت جمہوریاؤں کا مشترکہ اسلامی ورثہ ابوالحسن ہجویری سے لیکر علامہ اقبال تک ایک ہی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ڈاکٹر راجبی نے بتایا کہ خطّے کی کتابوں اور فنونِ لطیفہ کی نمائش نیز تھیٹر اور سنیما کے شوز کے علاوہ لاہور آرٹس کونسل کے تعاون سے اردو میں ایک ماہوار رسالے کا اجراء بھی کیا جائے گا اور اس طرح آٹھ برادر اسلامی ملک علمی، فنی، اقتصادی اور عمرانی میدان میں تعاون کر سکیں گے۔ اس سے قبل خانہء فرہنگ ایران کی بدولت پاکستان میں ایرانی ثقافت کی بھرپور نمائندگی ہوتی رہی ہے اور شائقین فارسی کے لیے درسی کلاسیں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اس نئی پیش رفت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران کے علاوہ پاکستانی عوام ترکی، افغانستان اور نو آزاد ہمسایہ جمہوریاؤں کی ثقافت سے بھی آشنا ہو سکیں گے۔ | اسی بارے میں پاک ایران سرحد چار دن سے بند 09 February, 2007 | پاکستان مذاکرات مثبت پش رفت ہے: پاکستان 01 June, 2006 | پاکستان ’جوہری ہتھیاروں کی گنجائش نہیں‘25 May, 2006 | پاکستان ایک اور ایرانی اہلکار پاکستان میں25 May, 2006 | پاکستان ’ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ‘17 May, 2006 | پاکستان ایرانی سرحد تک ریل سروس معطل08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||