BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 May, 2006, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ‘

پیٹرول
ایران سے پیٹرول کی سمگلنگ میں اضافہ ہو گیا ہے
پاکستان میں تیل کی قیمتوں اور اس کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے ہمسایہ ملک ایران سے بذریعہ بلوچستان پیٹرول کی سمگلنگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی کے سیکریٹری عابد سعید ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران نے اپنے سرحدی علاقوں میں تیل کی رعایتی قیمت مقرر کر رکھی ہے جہاں سے یہ تیل پاکستان سمگل ہورہا ہے۔

گزشتہ تین برسوں میں ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں بیس روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں دس روپے تک اضافہ ہوا ہے، تو دوسری طرف بینکوں کی جانب سے قسطوں پر گاڑیاں دینے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی در آمد پر پابندی کے خاتمے کی وجہ سے گاڑیوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ جس سے ملک میں پیٹرول کی طلب بھی واضح طور پر بڑھ گئی ہے۔

عابد سعید ابراہیم نے کہا کہ سمگل ہونے والا تیل پاک ایران سرحد سے بلوچستان پہنچتا ہے جہاں سے کنٹینرز اور آئل ٹینکروں کے علاوہ بسوں کے ذریعے بھی ملک کے دیگر علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

ایرانی پیٹرول بلوچستان،جنوبی سرحد جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں آسانی سے دستیاب ہے۔

 قانونی طور پر درآمد کیئے جانے والے پیٹرول پر فی لیٹر ایک روپیہ آٹھ پیسے منافع ملتا ہے جبکہ ایرانی پیٹرول پر گیارہ روپے فی لیٹر کے حساب سے بچت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم بلدیاتی اداروں کے حکام سے لیکر صوبائی حکومت اور سی بی آر کے سامنے اس ایشو کو اٹھا چکے ہیں اس سے نہ صرف مقامی ڈیلرز حکومت خود کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حکام اس پر ایکشن لے رہے ہیں مگر وہ زیادہ موثر نہیں ہے۔

ایران سے سمگل ہونے والا یہ پیٹرول عام طور پر چھوٹے شہروں اور علاقوں میں قائم دکانوں میں دستیاب ہوتا ہے، قانون کے مطابق دس کلو میٹر تک اگر پیٹرول پمپ نہ ہو تو وہاں تیل ڈپو قائم کیا جاسکتا ہے، ایسے ہی ڈپو سے یہ پیٹرول مل جاتا ہے جو عام پیٹرول کے مقابلہ میں پندرہ سے سترہ روپے تک سستا ہے۔

قومی شاہراہ اور انڈس ہائی وے پر واقعے صرف لاڑکانہ اور سکھر ریجن کے نو اضلاع میں ایسے کئی سو ڈپو موجود ہیں ۔

سکھر کے ایک ڈیلر اسلم شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ چھوٹے شہروں میں ضلعی انتظامیہ نے اپنے اختیارات کے تحت ڈبہ سٹیشنوں کو لائسنس جاری کیئے ہیں۔

جنہیں ساٹھ گیلن پیٹرول رکھنے کی اجازت ہوتی ہے مگر وہ دس ہزار لیٹر کی ٹینکیاں بناکر تیل فروخت کر رہے ہیں ۔


انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایک لیٹر پر ایک روپیہ آٹھ پیسے منافع ملتا ہے جبکہ ایرانی پیٹرول پر گیارہ روپے بچت ہوتی ہے۔

اسلم شیخ نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرول ڈیلرز کی کمیشن پانچ روپے سےچار روپے کردی ہے، جس سے بھی ایرانی پیٹرول کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

پاکستان میں تیل فروخت کرنے والی تیل کمپنیوں کی تنظیم آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی کے سیکریٹری عابد ابراہیم سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا مقامی ڈیلرز بھی اس کاروبار میں ملوث ہوگئے ہیں۔ تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ڈیلر کے بارے میں ثبوت ملا تو اس کے خلاف ضرور کارروائی کی جائیگی۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسو سی ایشن کے رہنما محمد سمیع کہتے ہیں کہ یہ پیٹرول بلوچستان پنجاب سرحد اور بلوچستان میں سر عام فروخت ہو رہا ہے،
ان ڈبہ پیٹرول اسٹیشنوں کے خلاف ہم حکومت سے احتجاج کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو اسمگلنگ میں اضافہ ہوتا ہے اس سمگلنگ کے خلاف ہم پورے پاکستان میں مہم چلائینگے۔

کیا ایران سے سمگل ہونے والا یہ پیٹرول کوالٹی میں بھی بہتر ہے؟

آئل کمپنیز ایڈوائزی کمیٹی کی سیکریٹری عابد ابراہیم کہتے ہیں کہ ایران کے مقابلے میں پاکستانی پیٹرول اعلیٰ کوالٹی کا ہے ایرانی پیٹرول کے مسلسل استعمال سے انجن میں ناکنگ کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔

یہ پیٹرول زیادہ تر کانٹریکٹرز اور ڈرائیور استعمال کرتے ہیں جن کی اپنی گاڑیاں نہیں ہوتیں۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے گزشتہ سال حکومت کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والے تیل میں بائیس فیصد ایران سے اسمگل ہوکر آرہا ہے جس سے قومی خزانے کو آٹھ ارب روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔

اسی بارے میں
پیٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ
28 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد