پیٹرول کی گرانی پر پہلا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج لاہور میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر جھگڑے کے نتیجہ میں ایک پچیس سالہ نوجوان قتل ہوگیا ہے جو حالیہ برسوں میں پٹرول کی گرانی پر پہلی ہلاکت ہے۔ گزشتہ روز آیل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مئی سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سوا سات فیصد تک ضافہ کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کے مطابق آج صبح تقریبا گیارہ بجے لاہور میں تاج باغ کا رہائشی پچیس سالہ محمد علی اپنی موٹر سائکل میں لال پل کے علاقہ میں شیل کے پٹرول پمپ پر پٹرول بھروانے کے لیے آیا تو اس نے پرانی قیمت سے ادائیگی کرنی چاہی۔ جب پٹرول پمپ ڈالنے والے ملازمین نے اس شخص سے نئی قیمت کے حساب سے پیسے مانگے تو دونوں فریقین میں تکرار اور جھگڑا ہوگیا۔ پولیس کے مطابق فریقین کے درمیان پانچ روپے کا جھگڑا تھا۔ اس جھگڑے کےد روان میں مبینہ طور پر پٹرول پمپ کے سیکیورٹی گارڈ رحیم گل نے محمد علی پر اپنی کارتوس کی بندوق سے گولی چلادی جس سے گلے پر گولی لگنے سے وہ شخص موقع پر ہلاک ہوگیا۔سکیورٹی گارڈ فرار ہوگیا ہے۔ اوگرا کے فیصلہ کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت ایک روپے اکتالیس پیسے فی لٹر بڑھا کر ستاون روپے ستر پیسے، ڈیزل کی قمیت ایک روپے پچپن پیسے بڑھا کر اڑتیس روپے تہتر پیسے اور مٹی کے تیل (کیروسین) کی قیمت دو روپے چھتیس پیسے بڑھا کر پینتیس روپے تئیس پیسے مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرول کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ سات مہینے بعد کیا گیا ہے جو ایک سال میں چوتھا اضافہ ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں ایک لٹر پیٹرول کی قیمت تینتالیس روپے چھیانوے پیسے تھی۔ یوں ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً چودہ روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں پٹرول مہنگا تو چینی بھی مہنگی07 February, 2006 | پاکستان پیٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ28 February, 2005 | پاکستان تیل کی قیمت میں اضافے پر رد عمل16 December, 2004 | پاکستان پیٹرول کی اسمگلنگ 26 May, 2004 | پاکستان پیٹرول کی قیمتوں پر ہڑتال12 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||