BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 June, 2008, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ نہیں

نواب اسلم رئیسانی
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت گرفتار ہونے والے ان کے ساتھیوں کی تفصیلات طلب
وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کی مالی امداد کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے آئندہ سال کے بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی سکیم نہیں ہوگی۔

بلوچستان حکومت کی کابینہ کا اجلاس آج وزیر اعلٰی نواب اسلم رئیسانی کی صدارت میں ہوا جس میں آئندہ سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے بات چت ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر مواصلات صادق عمرانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی مالی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ترقیاتی سکیموں کے حوالے سےآئندہ سال بھی رواں سکیمیں جاری رہیں گی اور کوئی نئی سکیم کا شامل کرنا مشکل ہے۔

صادق عمرانی کے مطابق اس اجلاس میں کچھ اراکین نے کہا کہ سابق حکومت نے آٹھ سو سے زائد ترقیاتی سکیمیں بنائی تھیں جس میں کوئی اڑھائی سو کے لگ بھگ اس سال مکمل ہونی ہیں۔

صوبائی کابینہ نے نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے وقت گرفتار ہونے والے ان کے چودہ ساتھیوں کے خلاف مقدامات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس اجلاس میں سیاسی اسیروں کی رہائی کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے۔

صادق عمرانی کے مطابق نواب اکبر بگٹی کے ذاتی معالج ڈاکٹر حنیف بگٹی کو جلد رہا کر دیا جائےگا اور اس کے علاوہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت گرفتار ہونے والے ان کے ساتھیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ وزیر اعلٰی نے انتظامیہ سے تفصیلات طلب کی ہیں۔

واضح رہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت گرفتار ہونے والے ان کے ساتھی اس وقت سبی جیل میں ہیں۔

بلوچستان میں ترقی تو دور کی بات بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی ناپید ہے۔ بلوچستان میں پانی نایاب ہے اور ان دنوں بلوچستان میں آٹھ سے اٹھارہ گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ پانی لانے والے ٹینکروں نے قیمت میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے اور اس کے باوجود پانی مِنت سے لاتے ہیں۔

بلوچستان میں بجلی کی ضرورت ایک ہزار میگا واٹ ہے جبکہ صوبے کو صرف تین سو میگا واٹ بجلی دستیاب ہے۔ صوبہ بلوچستان اس وقت کوئی بیس ارب روپے سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ لے چکا ہے جس پر بیس سے پچیس کروڑ روپے سود ادا کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد