BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 June, 2008, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہاب بلوچ ’خفیہ حراست‘سے رہا

بلوچ قوم پرست رہنما وہاب بلوچ
بلوچ رائٹس کاؤنسل کے رہنما کے مطابق انہیں اٹھائیس مئی کو نا معلوم افراد نے حراست میں لیا تھا
کراچی پریس کلب سے لاپتہ ہونے والے بلوچ قوم پرست رہنما وہاب بلوچ کو رہا کردیا گیا ہے۔ وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ ان سے بم دھماکوں کے بارے میں تفتیش کی گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بلوچ رائٹس کونسل کے رہنما وہاب بلوچ کے مطابق اٹھائیس مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے خلاف احتجاج کے بعد واپس جاتے ہوئے نامعلوم اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا اور انہیں چادر سے ڈہانپ کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک کمرے میں پلے جایا گیا جہاں سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ انہیں بار بار کہتے رہے ’تم پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہو اور اسے توڑنا چاہتے ہو۔‘

 وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک دن کے بعد انہیں ایک دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور ایک سٹریچر پر لٹا کر انجیکشن لگایا گیا۔ اس انجیکشن کے بعد ان کا پورا جسم سُن ہوگیا اور وہ غنودگی میں چلے گئے۔ ان کے مطابق انہیں ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ان سے کوئی بات کر رہا ہو۔

وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک دن کے بعد انہیں ایک دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور ایک سٹریچر پر لٹا کر انجیکشن لگایا گیا۔ اس انجیکشن کے بعد ان کا پورا جسم سُن ہوگیا اور وہ غنودگی میں چلے گئے۔ ان کے مطابق انہیں ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ان سے کوئی بات کر رہا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ہوش میں آنے کے بعد انہیں لگا جیسے وہ کافی وقت سوتے رہے ہیں اور سر میں شدید تکلیف تھی جس وجہ سے انہیں سر درد کی گولی دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش میں ان سے پوچھا گیا ’کراچی کے قریب واقع بلوچستان کے علاقے حب میں بم دھماکے کون کر رہا ہے، وطن بریگیڈ کیا ہے، اور کچھ اشخاص کے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے۔‘

وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی تنظیم لاپتہ بلوچ کارکنوں کی بازیابی کے لیے سرگرم ہے اور شاید یہ بات ان اداروں کو ناگوار گزری ہے۔

وھاب بلوچ کے مطابق پیر کی صبح پانچ بجے کے قریب ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر گورا قبرستان کے قریب چھوڑ دیا گیا۔

واضح رہے کہ وہاب بلوچ کے ساتھ ایک دوسرے رہنما غلام محمد بلوچ کو حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا۔ نو منتخب حکومت کے قیام کے بعد سے سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا یہ بظاہر پہلا واقعہ ہے۔

آمنہ مسعود مزید گمشدگیاں
پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداد مزیدبڑھ گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد