BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے سالگرہ، دو بلوچ رہنما لاپتہ

بلوچستان مظاہرے ( فائل فوٹو)
مظاہرین کو کراچی سے اٹھائیس مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم کے مطابق پاکستان میں ایٹمی دھماکے کی دسویں سالگرہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے جن دو کارکنوں اور دو بلوچ قوم پرست رہنماؤں عبدالوہاب بلوچ اور غلام محمد بلوچ کو گرفتار کیاگیا تھا ان میں سے ایک کارکن اب بھی لاپتہ ہے۔

عبدالوہاب بلوچ کے ساتھ بلوچ رائٹس کونسل میں کام کرنے والے شہزاد ظفر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں عبدالوہاب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے وہ لاپتہ ہیں ان سے کوئی رابطہ ہوا ہے نہ ان کا جرم بتایا جا رہا ہے۔

دونوں مظاہرین کو کراچی پریس کلب کے سامنے اٹھائیس مئی کو مظاہرہ کرنے کےبعد عبداللہ ہارون روڈ پر واقع انسانی حقوق کمیشن کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ہانگ کانگ میں قائم ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق گرفتار شدگان میں سے بلوچ رائٹس کونسل کے رہنماء عبدالوہاب بلوچ کو انتیس مئی کے دن تھانے سے بدنام زمانہ سی آئی ای سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں سے انہیں سرخ ڈبل کیبن گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایسی سرخ گاڑیاں متعدد بلوچ رہنماؤں کو لاپتہ کرنے والے ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکاروں کے زیراستعمال رہتی ہیں۔

دوسری جانب بلوچ نیشنلسٹ موومنٹ کے رہنماء غلام محمد بلوچ کو فریئیر روڈ تھانے میں زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ ایشیائی انسانی حقوق تنظیم کےمطابق غلام محمد بلوچ کے خلاف تھانے میں ایٹمی دھماکوں کے خلاف تقریر کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

غلام محمد بلوچ کو دو ہزار چھ میں گرفتاری کے بعد لاپتہ بتایا گیا تھا۔انہوں نے رہائی کے بعد پہلی بار کسی مظاہرے میں شرکت کی تھی ۔

پاکستان کےایٹمی دھماکے کے خلاف مظاہرے میں دونوں رہنماؤں نے بتایا تھا کہ چاغی میں مقامی بلوچ لوگ آج بھی تعلیم ،صحت اور پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں مگر حکمران ملکی خزانے کے اربوں روپے جوہری اسلحے اور جوہری تجربات پر خرچ کر رہے ہیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ چاغی کے پسماندہ لوگوں کے لیے ترقیاتی کام شروع کیے جائیں۔ایٹمی دہماکوں پر اربوں روپے خرچ نہ کیے جائیں۔ تعلیم ،صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات کے لیے ملکی بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
ایک سال میں 135 کو پھانسی
28 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد