BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 22:44 GMT 03:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افواہوں میں کوئی صداقت نہیں‘

صدر مشرف اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
صدر مشرف کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے (فائل فوٹو)
صدر مشرف نے آرمی چیف سے اختلافات اور اپنے استعفے سے متعلق سامنے آنے والی اخباری اطلاعات کی تردید کی ہے۔

سرکاری ٹیلیویژن پی ٹی وی کے مطابق صدر مشرف نے سابق گورنر پنجاب خالد مقبول کے اعزاز میں دیے گئے الوداعی عشائیے میں کہا کہ یہ(ان کے استعفے) کی افواہیں ایک مہم کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد ملک کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان افواہوں کی مہم سے یہ غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ ان میں اور فوج کے درمیان اختلافات ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آرمی چیف جنرل پرویز اشفاق کیانی کے ساتھ ان کی ملاقات ایک معمول کی ملاقات تھی جس میں انہوں نے مختلف معاملات پر بات چیت کی۔

صدر مشرف کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ملکی ترقی کے لیے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے سلسلے میں ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

صدر مشرف کا یہ بیان انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید میں دیکھا جا رہا ہے جس کے مطابق بدھ کی رات کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر پرویز مشرف سے ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات کی جس کے بعد صدر پرویز مشرف نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار کے مطابق آرمی چیف نے صدر کو اسمبلی توڑنے کی صورت میں ان کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ آرمی چیف نے جہاں صدر پرویز مشرف کے محافظ دستے کو تبدیل کیا ہے وہاں سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں فوری کارروائی کرنے والی راولپنڈی کور کی ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر جو کہ صدر پرویز مشرف کے انتہائی بااعتماد افسر ہیں انہیں بھی ہٹادیا ہے۔

اس سے پہلے ایوان صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی نے بھی صدر کے استعفے سے متعلق سامنے آنے والی اخباری خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ صدر پرویز مشرف نے نہ تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی وہ ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر کے ترجمان نے کہا کہ صدر کے حکومتِ پاکستان سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ قائم رہیں گے۔انہوں نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا ہے گزشتہ شب آرمی چیف سے ملاقات کے بعد صدر نے مستعفی ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی وقت اس کا اعلان متوقع ہے۔

 ٹرپل ون بریگیڈ کمانڈر بریگیڈئر عاصم باجوہ کی تبدیلی معمول کا حصہ ہے۔ ان کی مدت پوری ہوگئی ہے اور وہ ایک کورس کے لیے امریکہ جا رہے ہیں
میجر جنرل اطہر عباس

تاہم جب پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر پرویز مشرف کی حفاظت پر مامور ایک کمانڈو کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا تاہم ان کے بقول صدر کی حفاظت کی ذمہ دار آرمی یونٹ میں تبدیلی ہوئی ہے جو کہ معمول کی تبدیلی ہے۔

پاکستان میں فوجی بغاوتوں کےموقع پر اقتدار پر قبضہ کرنے والی راولپنڈی کور کی ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر کی تبدیلی کے بارے میں فوجی ترجمان نے بتایا کہ’بریگیڈ کمانڈر بریگیڈئر عاصم باجوہ کی تبدیلی معمول کا حصہ ہے۔ ان کی مدت پوری ہوگئی ہے اور وہ ایک کورس کے لیے امریکہ جا رہے ہیں‘۔

فوجی ترجمان کے مطابق بریگیڈئر باجوہ کا تبادلہ پونے پانچ سو افسران کے تبادلے کے اس حکم کا حصہ ہے جو ایک ماہ پہلے جاری ہوا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی صدر سے ملاقات اتنی طویل نہیں تھی جیسا کہ بعض اخبارات میں لکھا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ یہ ملاقات کب اور کتنی دیر جاری رہی اور اس کے بارے میں پریس ریلیز کیوں جاری نہیں ہوئی تو فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ ملاقات طویل دورانیے کی نہیں تھی اور اتنی غیر معمولی نوعیت کی بھی نہیں تھی کہ بیان جاری کیا جاتا۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ بعض اخبارات معمول کے واقعات کو سنسنی خیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔

صدر پرویز مشرف کے ہٹائے جانے کے بارے میں ایوان صدر اور فوجی ترجمانوں کا موقف اپنی جگہ لیکن اکثر تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کے بعد آصف علی زرداری کی جانب سے صدر پرویز مشرف کو ہٹانے کے بیانات کے بعد بظاہر صدر پر دباؤ حد سے بڑھ گیا ہے اور وہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

ادھر پاکستان بھر میں آج صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ ان افوہوں میں تیزی اس وقت نظر آئی جب پی ٹی وی نے بھی ایسی افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں اور ان پر تبصرے نشر کرنا شروع کیے۔

صدر کے مستعفی ہونے کی خبروں سے جہاں سیاسی حلقوں میں بے چینی نظر آئی وہاں سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی رہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد