BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرمی ہاؤس خالی کرانے کیلیے رٹ

صدر مشرف
’صدر پرویز مشرف کا آرمی ہاؤس میں قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے‘
صدر مملکت ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاؤس خالی کرانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر کی جانے والی رٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کا آرمی ہاؤس میں قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لیے عدالت انہیں آرمی ہاؤس خالی کرنے کا حکم دیا جائے۔


پرویزمشرف اٹھائیس نومبر سنہ دوہزار سات کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا کرسویلین صدر بن گئے تھے اسی دوران انہوں نے صدر کی تنخواہ، رہائش گاہ اور مراعات کے قانون مجریہ انیس سو پچھتر میں ترمیم کرتے ہوئے راولپنڈی کے آرمی ہاؤس کو صدر کی اضافی رہائش گاہ قرار دیا تھا۔

ان کے اس فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی اس تازہ رٹ میں کہا گیا ہے کہ آرمی ہاؤس میں رہنے کا استحقاق اب صرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی کو ہے اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔

آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی اے کے تحت یہ رٹ، عدلیہ بچاؤ کمیٹی کےسیکرٹری جنرل میاں جمیل اختر نے بدھ کو اپنے وکیل بیرسٹر ڈاکٹر فاروق حسن کے توسط سے دائر کی ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی افسروں کی ایک تنظیم بھی آرمی ہاؤس خالی کرانے کا مطالبہ کرچکی ہے ان کہنا ہے کہ آرمی ہاؤس میں صدرپرویز مشرف کی موجودگی سے عوام کو یہ غلط پیغام مل رہا ہے کہ فوج صدر پرویز مشرف کے مبینہ غیر آئینی اقدامات کی حامی ہے۔ پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پرفائز رہنے میں ریٹائرڈ افسروں کی تنظیم کا اجلاس گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوا تھا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں جنرل (ر) اسد درانی اور جنرل (ر) حمید گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف اپنی رہائش گاہ میں سیاست دانوں سے ملتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہیں جس سے آرمی ہاؤس کی غیر سیاسی حثیت بھی مجروح ہو رہی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر لاہور رجسٹری میں بدھ کی رٹ درخواست پر کوئی اعتراض نہ لگا تو یہ اسلام آباد بھجوائی جائے گی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد