مشرف آرمی ہاؤس خالی نہیں کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے آرمی چیف کے لیے مخصوص فوجی رہائش گاہ خالی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آرمی ہاؤس کو صدر کی رہائش گاہ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پرویز مشرف نے صدر کی تنخواہ، رہائش گاہ اور مراعات کے قانون مجریہ انیس سو پچھتر میں ترمیم کرتے ہوئے راولپنڈی کے آرمی ہاؤس، متعلقہ عمارات، سٹاف کوارٹروں اور باغیچے کو صدر کی سرکاری رہائش گاہ کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ ترمیم کے مطابق اسلام آباد میں واقع صدر کی سرکاری رہائش گاہ ’ایوان صدر‘ کے ساتھ ساتھ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس کو صدر کی اضافی سرکاری رہائش گاہ قرار دیا گیا ہے۔
بی بی سی کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس کے کچن کو ری ڈیزائن کرنے کے لیے خاتون اول صحبا مشرف نے حال ہی میں ایک ڈیزائنر کو کام بھی سونپا ہے۔ واضح رہے کہ جنرل پرویزمشرف نے اٹھائیس نومبر کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ کر انتیس نومبر کو سویلین صدر کے طور پر پی سی او کے تحت حلف یافتہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب عبدالحمید ڈوگر کے ہاتھوں حلف لیا تھا۔ یکم دسمبر کو جب صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی سے بی بی سی نے رابطہ کیا اور پوچھا کہ صدر پرویز مشرف آرمی ہاؤس کب خالی کریں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ کوئی خبر نہیں ہے اور اس طرح کی معلومات محدود نوعیت کی ہوتی ہے جو فراہم نہیں کی جاسکتیں‘۔ حکومتِ پاکستان نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے سرکاری خبر رساں ایجنسی سے یہ خبر جاری کی کہ آرمی ہاؤس کو صدر کی اضافی رہائش گاہ قرار دینے کے بارے میں متعلقہ قانون میں ترمیم کردی گئی ہے۔ دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ پرویز مشرف نے آرمی ہاؤس کو صدر کی رہائش گاہ قرار دے کر فوجی روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے اس اقدام سے انہیں لگتا ہے کہ وہ خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کرتے ہیں اور فوج پر انحصار برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق دو رہائش گاہیں رکھنے سے ٹیکس دہندگاں کی رقوم کا ضیاع ہوگا۔ ایک سوال پر جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ آرمی ہاؤس کو ایوان صدر بنانے سے نئے آرمی چیف جنلر اشفاق پرویز کیانی کی اتھارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ’جنرل کیانی اگر ایک کمرے میں بھی رہیں تو ان کے اختیارات یا حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ کمان اب ان کے پاس ہے‘۔ چند روز قبل حکومت نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری خط و کتابت میں ’صدر پرویز مشرف‘ لکھا جائے۔ یعنی ریٹائرڈ جنرل نہ لکھا جائے۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک طرف تو وہ اپنے نام کے ساتھ ریٹائرڈ جنرل لکھنا پسند نہیں کرتے لیکن دوسری طرف آرمی ہاؤس کو خالی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ | اسی بارے میں مشرف سویلین صدر بن گئے28 November, 2007 | پاکستان مشرف کیا کہنا بھول گئے28 November, 2007 | پاکستان مشرف کے بیان کا خیرمقدم: امریکہ30 November, 2007 | پاکستان صدرمشرف فوری خطرے سے محفوظ 29 November, 2007 | پاکستان پرویز مشرف کو صدر بش کا ٹیلیفون30 November, 2007 | پاکستان جنرل پرویز مشرف سے فوجی قیادت چھوڑنے کے لیے کہا ہے: نیگروپونٹے18 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||