ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | بش انتظامیہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ جنرل مشرف پر ایمرجنسی ہٹانے کے لیے امریکی دباؤ تھا |
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جمعہ کو صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو ٹیلیفون پر دوسری مدت کے لئے صدر کے عہدے کا حلف لینے پر مبارکباد دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق صدر بش نے ٹیلیفون پر صدر مشرف سے بات کی۔ ترجمان کی جانب سے جاری مختصر بیان میں محض اتنا ہی بتایا گیا کہ امریکی صدر نے صدر مشرف کو نیک تمناؤں کا پیغام بھی دیا۔ ادھر امریکی کانگرس کے ایک وفد نے بھی صدر مشرف سے ملاقات کی ہے۔ صدر نے انہیں بتایا کہ وہ ملک میں آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد اور جمہوریت کے استحکام کے لئے پرعزم ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کسی کو اپنی سرزمین کہیں بھی دہشت گردی کی سرگرمی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ کابینہ سیکرٹری سیُد مسعود عالم رضوی نے واضح کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے تحت نہیں بلکہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے تحت 29 نومبر کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا اور یہ منصب سنبھالا ہے۔ کابینہ سیکرٹری نے جمعہ کے روز بتایا کہ اس ضمن میں ایک حکم ماضی کے عمل اور روایت کے مطابق پاکستان آرمی، پاک نیوی اور پاک فضائیہ کے ہیڈ کوارٹرز کو بھیجا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف پر ایمرجنسی کے خاتمے یا وردی چھوڑنے کے لیے امریکہ کی جانب سے کوئی دباؤ تھا۔ جمعرات کو صدر پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ وہ سولہ دسمبر کو ملک سے ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے خاتمے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ |