BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 May, 2008, 22:47 GMT 03:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منظور وٹو پی ایم ایل (ق)سےمستعفی

میاں منظور وٹو اور پرویز الہی
مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے ادغام کے بعد انہوں نے اپنے دھڑے کو مسلم لیگ ق میں ضم کردیا تھا
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ق کے نائب صدر میاں منظور احمد وٹو حکومت میں شامل ہونے کے بعد پارٹی سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ منظور احمد وٹو کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مشیر مقرر کیا گیا ہے اور ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔

منظور وٹو نے حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اتوار کو مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

چودھری شجاعت حسین نے منظور وٹو کا استعفیْ منظور کرلیا ہے اور ان کی جگہ سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کو مسلم لیگ ق کا نیا نائب صدر مقرر کردیا ہے۔

ایک امکان
 امکان ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنے متوقع دورۂ لاہور کے دوران منظور وٹو سے ملاقات کریں گے اور سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ منظور وٹو پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں
چودھری امیر حسین نے سپیکر اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارٹی کے عہدوں سے مستعفیْ ہوگئے تھے۔

منظور احمد وٹو اٹھارہ فروری کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے گزشتہ اتوار ان کے دورۂ لاہور کے آخری روز ملاقات کی تھی۔ منظور وٹو کے پارٹی پالیسی کی خلاف وزری کرنے پر ان کے اپنی پارٹی قیادت کے ساتھ اختلاف چل رہے تھے۔

منظور وٹو نے جو مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے وزارت اعلیٰ کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی بھی رہ چکے ہیں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران ان سے الگ ہوگئے تھے اور سابق سپیکر قومی اسمبلی حامد ناصر چٹھہ کے ساتھ مل کر مسلم لیگ جونیجو قائم کی تھی۔ انیس سو ترانوے میں بینظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد منظور وٹو نےپیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت قائم کی تھی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دور میں منظور وٹو کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ سردار عارف نکئی کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا بعدازں منظور وٹو نے مسلم لیگ جناح کے نام سے ایک نیا دھڑہ بنالیا تاہم مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے ادغام کے بعد انہوں نےاپنےدھڑے کو مسلم لیگ ق میں ضم کردیا تھا۔

امکان ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنے متوقع دورۂ لاہور کے دوران منظور وٹو سے ملاقات کریں گے اور سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ منظور وٹو پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
منظور وٹو کے خلاف مقدمہ ختم
05 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد