کھوسہ پر ارکانِ اسمبلی کا اعتماد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے نومنتخب وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نےاسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اتحادی جماعتوں کے دو سو چونسٹھ اراکین نے وزیرِاعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ وزیرِاعلٰی دوست محمد کھوسہ نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج آمریت کی آہنی زنجیر ٹوٹی اور شخصی حکمرانی کا خاتمہ ہوا ہے۔ فریب پر قائم عہد کو ڈوبتے دیکھا ہے لیکن یہ منظر ابھی ادھورا ہے ، حکمران بدل گئے ہیں لیکن عوام کا مقدر ابھی نہیں بدلا اور غربت، محرومی اور معاشی بدحالی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ نظام بدلنے کا عہد لے کر آئے ہیں اور ان کی حکومت میثاق جمہوریت سے لے کر اعلان مری تک عوام کے کیےگئے تمام وعدے پورے کرے گی، مہنگائی کا توڑ کیا جائے گا اور شادی بیاہ میں ون ڈش کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو سرکاری ملازمین عوام کی دولت لوٹتے رہے وہ احتساب سے نہیں بچ پائیں گے اور افسروں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لیے کھلے رکھیں۔ دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ حکمرانوں کی ذاتی نمود ونمائش کے اخرجات ختم کیے جائیں گے، فلاح و بہبود کے عوامی منصوبوں میں عوام کوشامل کیا جائے گا جبکہ جن منصوبوں میں عالمی اداروں کی شمولیت ہے انہیں شفاف انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کو منصب داری نظام بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مقامی حکومتوں کو اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا کیونکہ اگر حکومتیں عام آدمی کی دہلیز تک نہیں پہنچیں تو ان کا وجود بے کار ہوگا۔ سردار دوست محمد کھوسہ نے غریب لوگوں کے لے کم قیمت گھر بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ عدالت عالیہ سے مل کر انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا حل ڈھونڈا جائے گا، محکمۂ پولیس کی تعمیر نو اور اس کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا لیکن اسے کڑے احتساب سے گزرنا ہوگا۔ نئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس آرڈر کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور پولیس کو ماورائے قانون اقدامات کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سرکاری ملازم بھی یہ جان لیں کہ اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدمعاشوں کی سرپرستی کا عہدگزرگیا ہے اور ناجائز فروشوں اور قبضے کرنے والے گروہوں کا جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں کو عزیز ترین اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ سیاسی کارکن ہمارے سروں کا تاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، تحریک انصاف، صحافی، وکلاء اور سول سوسائٹی کے اراکین کے خلاف سیاسی بنیادوں پر جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں انہیں ایک شفاف طریقۂ کار سے ختم کرا دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا دہرایا کہ ان کا یہ عہدہ ان کی جماعت مسلم لیگ نون اور اس کے صدر شہباز شریف کی امانت ہے اور جب تک یہ عہدہ ان کے پاس ہے وہ دیانت داری سے فرائض نباہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر بےنظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے منشور الگ الگ ہیں اور ان کی سوچ بھی مختلف ہے لیکن دونوں جماعتوں کا ایجنڈا ایک ہے اور دونوں کا مشن صوبے کے عوام کی خدمت ہے۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا آغاز ہوا تو اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیر الدین نے پوائنٹ آف آرڈر پر لمبی بات کرنا چاہی جس کی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے اجازت نہیں دی اور کہا کہ یہ اجلاس وزیر اعلی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے بلایا گیا ہے۔ ان کی اس بات پر مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن اراکین نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے راجہ ریاض اور ندیم کامران پر مبنی دو رکنی کمیٹی انہیں منانے کے لیے بھیجی لیکن اپوزیشن اراکین نے اپنا احتجاج اور بائیکاٹ ختم نہیں کیا۔ | اسی بارے میں لاہور: نئے وزیراعلٰی کی حلف برداری12 April, 2008 | پاکستان پنجاب:وزارت اعلیٰ کے امیدوار نامزد09 April, 2008 | پاکستان پنجاب میں سپیکر و ڈپٹی بلا مقابلہ11 April, 2008 | پاکستان ’جان کوخطرہ مگر سکیورٹی میں کمی‘13 April, 2008 | پاکستان ’سیاسی‘ مقدمات کے خاتمے کا اعلان14 April, 2008 | پاکستان وزیراعلیٰ آفس: نعرہ اور حقیقت15 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||