’جان کوخطرہ مگر سکیورٹی میں کمی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف اور مسلم لیگ قاف کے رہنما چودھری پرویز الہیْ کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی جان کو خطرہ ہے اور اگر انہیں کچھ ہوا تو ذمہ داری نواز شریف اور شہباز شریف پر ہوگی۔ اتوار کو اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزارتِ اعلٰی کے دوران سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر بلٹ پروف گاڑی استعمال کرتے تھے اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ہی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں۔ پرویز الہیْ کے بقول نگران حکومت نے ان کی سکیورٹی کے پیش نظر جو انتظامات کیے تھے وہ اب واپس لے لیے گئے ہیں اور پولیس کی نفری بھی کم دی گئی ہے حالانکہ خطرہ ابھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے یا میرے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو اس کی ایف آئی آر دو افراد یعنی نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف ہونی چاہیے‘۔ انہوں نےحکومت پنجاب کی جانب سے سکیورٹی کے بارے میں لکھے جانے والے خطوط پریس کانفرنس کے دوران دکھائے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں القاعدہ کی جانب سے خطرہ ہونے کی وجہ سے بلٹ پروف گاڑی دی گئی۔ ان کے بقول اب وہ بلٹ پروف گاڑی واپس کر چکے ہیں اور اپنی ذاتی گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔ پرویز الہیْ نے پنجاب کے لیے نئے وزیر اعلیْ کی جانب سے اپنے اوپر قومی خزانے کے بےدریغ استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا اور الزام عائد کیا کہ ماضی میں نواز شریف نے قومی خزانہ کا بے دریغ استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں دو بلین کی لاگت سے وزیراعظم سیکریٹریٹ جبکہ پینتالیس کروڑ سے اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس تعمیر ہوا۔ خیال رہے کہ پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیْ دوست محمد کھوسہ نے حلف اٹھانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سابق حکومت نے وزیراعلٰی سیکریٹریٹ کی تعمیر پر ایک ارب تنتالیس کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ دوست محمد کھوسہ نے وزیراعلٰی سیکریٹریٹ کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے بھی اعلان کیا تھا۔ پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز کے پاس عوام کی ریلیف کے لیے کوئی پروگرام نہیں البتہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ان کے پاس پروگرام ہے۔ پنجاب اسمبلی میں فاروڈ بلاک کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ فارورڈ بلاک کے ارکان اگر صوبائی کابینہ میں شامل ہوئے تو ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس دائر کیے جائیں گے۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں پرویز الہیْ نے کہا کہ قاف لیگ نے پنجاب اسمبلی میں بائیکاٹ ختم کردیا ہے اور ان کی جماعت کے ارکان آئندہ اجلاس میں بھرپور حصہ لیں گے۔ عدلیہ کی بحالی کے بارے قائد حزب اختلاف کا کہنا تھاکہ یہ معاملہ دو جماعتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے جب وضاحت ہوجائےگی تو اس پر اپنا موقف بیان کریں گے۔ | اسی بارے میں سیاسی جماعتوں کا رد عمل10 April, 2008 | پاکستان سابق وزیرشیر افگن کے ساتھ بدسلوکی08 April, 2008 | پاکستان ’پی ایم ایل این ذمہ دار ہے‘09 April, 2008 | پاکستان پنجاب: سرکاری اہلکار برطرف 11 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||