وزیراعلیٰ آفس: نعرہ اور حقیقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابی مہم کے دوران سیاسی اعلانات اور وعدے معمول کی بات ہے لیکن ان پر فوری عملدرآمد لوگوں کے لیے حیران کن امر ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد لاہور میں اعلیٰ ترین سرکاری رہائشی علاقہ جی او آر ون میں نو تعمیر شدہ وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ کو یونیورسٹی میں تبدیل کر دیں گے۔ انتخابی مہم میں ایسے وعدے تعجب کی بات نہیں ہوتے لیکن بارہ اپریل کی رات پنجاب کے نو منتخب وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا اور اپنی جماعت کے سربراہ کے اعلان پر فوری عمل درآمد کر دیا۔ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ کے دورِ اقتدار میں پہلے سے سات کلب روڈ پر موجود وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ کی عمارت کے ساتھ نیا وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ تعمیر کرایا جو ڈیڑھ برس میں مکمل ہوا اور یہ عمارت تقریباً پچاس کروڑ میں تیار ہوئی۔ اس عالیشان عمارت میں جدید ترین حفاظتی آلات نصب کیے گیے اور یہاں آٹھ سو سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔اس دو منزلہ عمارت میں تین درجن سے زائد کمرے ہیں جبکہ اس میں ایک باغیچہ بھی ہے، جو سینٹرلی ائر کنڈیشنڈ ہے۔اس عمارت کی دیکھ بھال پر سالانہ چالیس لاکھ لاگت آتی ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججوں اور اعلیٰ افسروں کی سرکاری رہائش گاہوں کے اس علاقے جی او آر میں وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ واحد عمارت ہے جو دو منزلہ ہے اور طرز تعمیر کی اعتبار سے علاقے کی دیگر عمارتوں سے مختلف ہے۔ اس عمارت کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ چودھری پرویز الہیٰ نے نومبر سنہ دو ہزار چار میں اس کا سنگ بنیاد رکھااور سنہ دو ہزار چھ میں انہوں نے اس کا افتتاح کیا۔ پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اس عمارت کا دورہ کیا اور صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ پر شاہ خرچیوں کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں اگلے روز ہی پرویز الہیٰ نے ایک پریس کانفرنس بلائی اور کوئی ٹھوس، مؤثر اور مناسب جواب دینے کی بجائے الٹا الزام عائد کیا کہ جو لوگ اس سیکریٹریٹ پر اعتراض کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ نوازشریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اسلام آباد میں وزیراعظم سیکریٹریٹ تعمیر کرایا جس پر اٹھارہ برس پہلے لاگت دو ارب روپے آئی تھی۔ ان کے بقول نواز شریف نے پینتالیس کروڑ کی لاگت سے اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس تعمیر کرایا۔
نومنتخب وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد ایک کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو اس عمارت کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلے میں عمل درآمد کا طریقہ کار ترتیب دے گی، جبکہ اس سیکریٹریٹ میں آٹھ سو کے لگ بھگ ملازمین کو دوسرے محکموں میں تعینات کرنے کا عمل ابھی شروع ہونا ہے۔ لاہور میں اس وقت تین وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ موجود ہیں جن میں ایک سات کلب روڈ، دوسرا نوے شاہراہ قائداعظم اور تیسرا آٹھ کلب روڈ پر تعمیر ہونے والی نئی عمارت میں موجود ہے جبکہ پنجاب کے سول سیکریٹریٹ کی عمارت میں بھی وزیراعلیٰ کا مستقل چیمبر موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ کے سیکرٹیریٹ کے لیے پہلے سے عمارتیں موجود ہونے کے باوجود نئی عمارت کی تعمیر ازخود ایک سوالیہ نشان سے کم نہیں ہے ۔ چودھری پرویز الہیٰ کا جواب چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود رہے گی کہ اگر نئے سیکرٹیریٹ کی تعمیر سے پہلے وزراء اعلیٰ احسن طریقہ سے اپنے فرائض انجام دے سکتے تھے اور آنے والے نئے حکمران بھی اب اس عمارت کو استعمال نہیں کریں تو کیا سابق حکمرانوں کی کارکردگی کے لیے یہ عمارت بہت ضروری تھی۔
تاہم یہ امر بھی غور طلب ہے کہ شہر کے اس علاقہ میں جہاں وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ، ججوں اور سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں کی وجہ سے سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت ہوتے ہیں کیا وہاں ایک تعلیمی ادارے کا قیام مناسب قدم ہوگا؟ صوبے کے موجود حکمرانوں کا موقف ہے کہ اگر رہائشی علاقے میں ایک بڑا سیکرٹیریٹ قائم کیا جاسکتا ہے تو اسی علاقے میں یونیورسٹی کے قیام سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں ’سیاسی‘ مقدمات کے خاتمے کا اعلان14 April, 2008 | پاکستان ’جان کوخطرہ مگر سکیورٹی میں کمی‘13 April, 2008 | پاکستان لاہور: نئے وزیراعلٰی کی حلف برداری12 April, 2008 | پاکستان پنجاب: سرکاری اہلکار برطرف 11 April, 2008 | پاکستان ’پی ایم ایل این ذمہ دار ہے‘09 April, 2008 | پاکستان شریف برادران کے لیے نیا چیلنج12 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||