BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی‘ مقدمات کے خاتمے کا اعلان

شہباز شریف
شہباز شریف کے مطابق جو سیاسی کارکن اب تک قید ہیں انہیں رہا کیا جائے گا
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام مقدمات ختم کیے جارہے ہیں جو سیاسی جدوجہد کرنے والے کارکنوں کے خلاف بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کے بعد قائم کیے گئے۔

لاہورکے نواح میں رائے ونڈ روڈ پر شریف میڈیکل کمپلیکس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے کہا وہ تمام مقدمات جو مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، تحریک استقلال، متحدہ مجلس عمل سمیت جن بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف درج ہیں ان کے خاتمہ کے لیے محمکہ داخلہ کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں وہ تمام مقدمات شامل ہیں جوانسداد دشت گردی ایکٹ ، تعزیرات پاکستان یا کسی بھی دفعہ کے تحت سیاسی بنیادوں پر قائم ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جو سیاسی کارکن بدقسمتی سے اب تک قید ہیں انہیں رہا کیا جائے گا۔

ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے پنجاب حکومت کی نئی ترجیحات کا اعلان کیا۔

’صوبے میں نجی اور سرکاری تعلیم کا فرق ختم کیا جائے گا اور انفارمشین ٹیکنالوجی پارک بنا کر ہندوستان کے شہر بنگلور کی تقلید کی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ پڑھالکھا پنجاب ورلڈ بنک کا پروگرام ہے جو جاری رہے گا البتہ اس بات کی تحقیقات کی جائے گی قرضے کی رقم سے چلنے والے اس پروگرام کو سابق وزیر اعلی پنجاب اپنی تشہیری مہم کے لیے کیوں استعمال کرتے رہے۔‘

 پڑھالکھا پنجاب ورلڈ بنک کا پروگرام ہے جو جاری رہے گا البتہ اس بات کی تحقیقات کی جائے گی قرضے کی رقم سے چلنے والے اس پروگرام کو سابق وزیر اعلی پنجاب اپنی تشہیری مہم کے لیے کیوں استعمال کرتے رہے
شہباز شریف
شہباز شریف نے کہاکہ ماتحت عدالتوں میں فوجداری مقدمات کے لیے الگ سے نئے جج تعنیات کیےجائیں گے اور اس کے لیے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیاجائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ لاہور سمیت مختلف شہروں میں ٹریفک وراڈنز کی تعیناتی قواعد و ضوابط کے خلاف ہیں اور ان تقرریوں کی نظر ثانی کی جائے گی۔انہوں نےکہا کہ سابق دور میں جو بھرتیاں قواعد کے خلاف تھیں انہیں ختم کیا جارہاہے اور صوبے بھر میں ایماندار ضلعی پولیس افسر اور ضلعی رابطہ افسر تعینات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے بھی جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا تاکہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کنٹرول کیاجاسکے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایوان صدر سازشوں کا منبع بن چکا ہے اور گورنر پنجاب کے خصوصی طیارے میں عدل و قانون سے متعلق ایک شخصیت کو رات کے اندھیرے میں ایوان صدر لے جایا جاتا ہے اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔انہوں نے اس شخصیت کا نام تو نہیں بتایا البتہ کہا کہ جلد اس سازش سے پردہ اٹھ جائے گا۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خواجہ آصف بھی موجود رہے انہوں نے کہا کہ جن افراد نے سرکاری وسائل لوٹے ہیں انہیں عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون ججوں کی بحالی کے اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان کے مطابق اکتیس مارچ سے تیس روز کی الٹی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر ججوں کی بحالی کا اعلان کردیا جائے گا۔

ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی جس پریس کانفرنس میں حکومت پنجاب کے منصوبوں اور اہم فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بتایا گیا اس میں نومنتخب وزیر اعلی سردار دوست محمد کھوسہ موجود نہیں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد