چودھریوں کی ’سیاسی کنبہ پروری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل سیاسی اور صحافتی حلقوں میں صدر مشرف کی حامی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی ناکامیوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ کوئی اسے صدر مشرف کی قربت کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے تو کہیں عدالتی بحران کو ق لیگ کی شکست کا ذمہ دار گردانا جا رہا ہے۔ آٹے کے بحران، لوڈ شیڈنگ، گیس کی کمی اور مہنگائی کو بھی مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی ہزیمت کی وجوہات کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ لیکن اگر مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی سیاست کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چودھری برادران کی ’سیاسی کنبہ پروری‘ بھی ق لیگ کے زوال کی ایک وجہ بنی ہے۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی زیر انتظام ذات برادری کی سیاست کے زیادہ اثرات پنجاب میں زیادہ نظر آتے ہیں جہاں عام خیال کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم میں گجرات کے چودھریوں کی رشتہ داریوں اور ذاتی تعلقات کو مسلم لیگ قائد سے وابستگی اور جیتنے کے امکانات پر ترجیح دی گئی۔ اس کی مثالیں آپ کو پنجاب بھر میں جا بجا نظر آتی ہیں۔
یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ خود چودھری پرویز الٰہی اٹک کے حلقے این اے اٹھاون سے ق لیگ کے امیدوار بنے جبکہ ضلع ناظم سردار طاہر صادق کے داماد وسیم گلزار حلقہ انسٹھ سے پارٹی کے امیدوار تھے۔ اسی نوعیت کی ایک اور مثال چکوال سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ساٹھ میں دیکھنے میں آئی جہاں سابق وفاقی وزیر طاہر اقبال پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی بورڈ سے ٹکٹ حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو گئے۔ تاہم جب کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ آیا تو چودھریوں کے حمایت یافتہ ضلعی ناظم سردار غلام عباس نے (ق) لیگ کا ٹکٹ رکھنے والے پینل کے مقابلے میں ایک آزاد پینل کھڑا کر دیا جس میں قومی اسمبلی کے امیدوار خود ان کے اپنے بھائی تھے۔ میجر (ر) طاہر اقبال کے ماموں اور مسلم لیگ قائداعظم کے نائب صدر جنرل (ر) مجید ملک نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا یہ معاملہ پہلے تو پارٹی قیادت کے سامنا اٹھایا اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ سب کچھ چودھری صاحبان کے ایماء پر ہو رہا ہے تو انہوں نے پارٹی کا ٹکٹ واپس کر دیا اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار ایاز امیر کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری سرپرستی اور ناظموں کے اثرورسوخ کے باوجود مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار سردار نواب خان بھاری اکثریت سے ہار گئے۔ چودھری پرویز الٰہی خود چکوال سے قومی اسمبلی کے دوسرے حلقے این اے اکسٹھ سے امیدوار بنے لیکن ٹکٹ کے اصل امیدوار فیض ٹمن کے مقابلے میں ہار گئے جنہوں نے نواز لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
سابق وزیر قانون زاہد حامد کو بھی جب مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی گروپ نے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے میں عافیت سمجھی۔ ان کے خلاف چودھری برادران نے چودھری ستار وریو کو ٹکٹ جاری کیا جو الیکشن ہار گئے۔ تعمیرنو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے بھی گجرات کے چودھریوں کے خلاف اپنے مخالف امیدوار طارق انیس کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ تو انہیں جاری کیا تھا لیکن چودھری پرویز الٰہی درپردہ آزاد امیدوار طارق انیس کی حمایت کر رہے تھے۔
مسلم لیگ قائداعظم کے صدر چودھری شجاعت حسین قومی اسمبلی کے دو جبکہ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور وزارت عظمٰی کے لیے پارٹی کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے الیکشن لڑا۔ چودھری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین بھی گجرات سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر امیدوار تھے۔ چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور پنجاب کے سیاسی منظر پر ابھرنے والے نئے ستارے مونس الٰہی نے صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں سے الیکشن لڑا۔ تاہم گجرات کے چودھریوں کے پورے خاندان کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ نشستیں چودھری پرویز الٰہی نے اٹک اور منڈی بہاؤالدین اور چودھری وجاہت حسین اور مونس الٰہی نے گجرات سے جیتیں۔ چودھری شجاعت حسین گجرات کے علاوہ سیالکوٹ سے بھی الیکشن ہار گئے جبکہ پرویز الٰہی کو چکوال اور بہاولپور میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ | اسی بارے میں شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 صدر مشرف کے لیے کمر توڑ نتائج19 February, 2008 | پاکستان عدالت از خود نوٹس لے: نیلوفر26 June, 2007 | پاکستان پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟25 February, 2008 | الیکشن 2008 پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل26 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||