BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 February, 2008, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چودھریوں کی ’سیاسی کنبہ پروری‘

چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہی
چودھری خاندان کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا
آج کل سیاسی اور صحافتی حلقوں میں صدر مشرف کی حامی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی ناکامیوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

کوئی اسے صدر مشرف کی قربت کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے تو کہیں عدالتی بحران کو ق لیگ کی شکست کا ذمہ دار گردانا جا رہا ہے۔ آٹے کے بحران، لوڈ شیڈنگ، گیس کی کمی اور مہنگائی کو بھی مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی ہزیمت کی وجوہات کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

لیکن اگر مسلم لیگ قائد اعظم کی انتخابی سیاست کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چودھری برادران کی ’سیاسی کنبہ پروری‘ بھی ق لیگ کے زوال کی ایک وجہ بنی ہے۔

چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی زیر انتظام ذات برادری کی سیاست کے زیادہ اثرات پنجاب میں زیادہ نظر آتے ہیں جہاں عام خیال کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم میں گجرات کے چودھریوں کی رشتہ داریوں اور ذاتی تعلقات کو مسلم لیگ قائد سے وابستگی اور جیتنے کے امکانات پر ترجیح دی گئی۔ اس کی مثالیں آپ کو پنجاب بھر میں جا بجا نظر آتی ہیں۔

وزارت عظمیٰ کےامیدوار
 قصور کے حلقے این اے ایک سو چالیس سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار تھے لیکن ان کے مطابق چودھری پرویز الٰہی نے ان کو ہرانے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر سردار حسن اختر موکل کو آزاد امیدوار کھڑا کر رکھا تھا جس کی بظاہر وجہ خورشید محمود قصوری کو قومی اسمبلی تک پہنچنے سے روکنا تھا تاکہ وہ چودھری پرویز الٰہی کے خلاف وزارت عظمٰی کے امیدوار نہ بن سکیں۔ شاید اسی حکمت عملی کے باعث سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو کسی بھی حلقے سے ٹکٹ نہیں دیا گیا اور وہ انتخابات کے گرد آلود موسم سے پہلے ہی لندن سدھار گئے۔
چودھری برادران کے انداز سیاست کا پہلا شکار سابق وزیر مملکت ملک امین اسلم بنے جنہیں ابتدائی طور پر ضلع اٹک کے حلقے این اے ستاون سے مسلم لیگ قائداعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ بعد میں ضلع ناظم سردار طاہر صادق کی صاحبزادی اور چودھریوں کی قریبی رشتے دار ایمان وسیم کو ملک امین اسلم کے مقابلے میں آزاد حیثیت سے امیدوار کھڑا کر دیا گیا۔ ملک امین اسلم چودھریوں کی اس چال کو بھانپ گئے اور انہوں نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دیا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ اس حلقے میں مشرف کے حامی امیدواروں کے آپس میں ٹکراؤ کا فائدہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار شیخ آفتاب احمد کو پہنچا اور وہ معمولی برتری سے یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ خود چودھری پرویز الٰہی اٹک کے حلقے این اے اٹھاون سے ق لیگ کے امیدوار بنے جبکہ ضلع ناظم سردار طاہر صادق کے داماد وسیم گلزار حلقہ انسٹھ سے پارٹی کے امیدوار تھے۔

اسی نوعیت کی ایک اور مثال چکوال سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ساٹھ میں دیکھنے میں آئی جہاں سابق وفاقی وزیر طاہر اقبال پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی بورڈ سے ٹکٹ حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو گئے۔ تاہم جب کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ آیا تو چودھریوں کے حمایت یافتہ ضلعی ناظم سردار غلام عباس نے (ق) لیگ کا ٹکٹ رکھنے والے پینل کے مقابلے میں ایک آزاد پینل کھڑا کر دیا جس میں قومی اسمبلی کے امیدوار خود ان کے اپنے بھائی تھے۔

میجر (ر) طاہر اقبال کے ماموں اور مسلم لیگ قائداعظم کے نائب صدر جنرل (ر) مجید ملک نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا یہ معاملہ پہلے تو پارٹی قیادت کے سامنا اٹھایا اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ سب کچھ چودھری صاحبان کے ایماء پر ہو رہا ہے تو انہوں نے پارٹی کا ٹکٹ واپس کر دیا اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار ایاز امیر کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری سرپرستی اور ناظموں کے اثرورسوخ کے باوجود مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار سردار نواب خان بھاری اکثریت سے ہار گئے۔ چودھری پرویز الٰہی خود چکوال سے قومی اسمبلی کے دوسرے حلقے این اے اکسٹھ سے امیدوار بنے لیکن ٹکٹ کے اصل امیدوار فیض ٹمن کے مقابلے میں ہار گئے جنہوں نے نواز لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

ذات برادری کی سیاست
 چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی زیر انتظام ذات برادری کی سیاست کے زیادہ اثرات پنجاب میں زیادہ نظر آتے ہیں جہاں عام خیال کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم میں گجرات کے چودھریوں کی رشتہ داریوں اور ذاتی تعلقات کو مسلم لیگ قائد سے وابستگی اور جیتنے کے امکانات پر ترجیح دی گئی۔ اس کی مثالیں آپ کو پنجاب بھر میں جا بجا نظر آتی ہیں۔
ضلع منڈی بہاؤالدین کے حلقے این اے ایک سو آٹھ میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اعجاز احمد چودھری کو ٹکٹ جاری کرنے کے بجائے چودھری برادران نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ظفراللہ تارڑ کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعجاز احمد چودھری کو مسلم لیگ نواز کے پروں کے نیچے پناہ لینی پڑی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد طارق تارڑ کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کیا۔ محمد طارق تارڑ یہ سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ اعجاز احمد چودھری نے ووٹوں کے حساب سے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ چودھریوں کے منظور نظر ظفراللہ تارڑ تیسرے نمبر پر آئے۔ تاہم چودھری پرویز الٰہی منڈی بہاوالدین سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے۔

سابق وزیر قانون زاہد حامد کو بھی جب مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی گروپ نے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے میں عافیت سمجھی۔ ان کے خلاف چودھری برادران نے چودھری ستار وریو کو ٹکٹ جاری کیا جو الیکشن ہار گئے۔

تعمیرنو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے بھی گجرات کے چودھریوں کے خلاف اپنے مخالف امیدوار طارق انیس کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ تو انہیں جاری کیا تھا لیکن چودھری پرویز الٰہی درپردہ آزاد امیدوار طارق انیس کی حمایت کر رہے تھے۔

دانیال کی شکایت
 تعمیرنو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے بھی گجرات کے چودھریوں کے خلاف اپنے مخالف امیدوار طارق انیس کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ تو انہیں جاری کیا تھا لیکن چودھری پرویز الٰہی درپردہ آزاد امیدوار طارق انیس کی حمایت کر رہے تھے۔
قصور کے حلقے این اے ایک سو چالیس سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار تھے لیکن ان کے مطابق چودھری پرویز الٰہی نے ان کو ہرانے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر سردار حسن اختر موکل کو آزاد امیدوار کھڑا کر رکھا تھا جس کی بظاہر وجہ خورشید محمود قصوری کو قومی اسمبلی تک پہنچنے سے روکنا تھا تاکہ وہ چودھری پرویز الٰہی کے خلاف وزارت عظمٰی کے امیدوار نہ بن سکیں۔ شاید اسی حکمت عملی کے باعث سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو کسی بھی حلقے سے ٹکٹ نہیں دیا گیا اور وہ انتخابات کے گرد آلود موسم سے پہلے ہی لندن سدھار گئے۔

مسلم لیگ قائداعظم کے صدر چودھری شجاعت حسین قومی اسمبلی کے دو جبکہ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور وزارت عظمٰی کے لیے پارٹی کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے الیکشن لڑا۔ چودھری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین بھی گجرات سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر امیدوار تھے۔ چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور پنجاب کے سیاسی منظر پر ابھرنے والے نئے ستارے مونس الٰہی نے صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں سے الیکشن لڑا۔ تاہم گجرات کے چودھریوں کے پورے خاندان کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ نشستیں چودھری پرویز الٰہی نے اٹک اور منڈی بہاؤالدین اور چودھری وجاہت حسین اور مونس الٰہی نے گجرات سے جیتیں۔ چودھری شجاعت حسین گجرات کے علاوہ سیالکوٹ سے بھی الیکشن ہار گئے جبکہ پرویز الٰہی کو چکوال اور بہاولپور میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

اسی بارے میں
نئی حکومت: امید کی ایک کرن
23 February, 2008 | الیکشن 2008
متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟
25 February, 2008 | الیکشن 2008
پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل
26 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد